تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 505

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از تقریر فرموده 109 اپریل 1944ء کی۔منہ سے تو ہر شخص کہتا ہے کہ میں نے اپنی جان اور اپنا مال قربان کر دیا۔مگر جب مال مانگا گیا تو ایک فیصدی لوگ بھی ایسے کھڑے نہ ہوئے ، جو اپنی جائیدادیں وقف کرنے کے لئے تیار ہوں۔اس نمونہ کے بعد ہم اپنی ترقی کی کیا امید کر سکتے ہیں؟ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہم میں ایک شخص بھی ایسا نظر نہ آتا ، جس نے اپنی جائیداد یا اپنی آمد کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف نہ کر دیا ہو۔مگر مجھے افسوس ہے کہ بہت سے لوگوں کی حالت بالکل ویسی ہی ثابت ہوئی، جیسے مشہور ہے کہ ایک پٹھان رئیس سے کسی بیٹے کی دوستی ہو گئی۔ایک دن اسے بہت ہی جوش پیدا ہوا اور اس نے خاں صاحب سے یہ کہنا چاہا کہ خان صاحب ہمارا مال ، آپ کا مال اور آپ کا مال، ہمارا مال۔ہم اب دو نہیں رہے بلکہ ایک ہی ہو گئے ہیں۔لیکن جب اس نے اپنی زبان سے یہ بات کہنی چاہی تو اس کے منہ سے صرف یہ نکلا ، خان صاحب تمہارا مال سو ہمار المال اور ہمارا مال سو ہیں، ہیں، ہیں، ہیں۔گویا اپنا مال دوسرے کو دینا تو الگ رہا، وہ اپنے منہ یہ بھی نہ کہہ سکا کہ ہمارا مال تمہارا مال۔بلکہ ہمارا مال کہنے کے ساتھ ہی ہیں، ہیں، ہیں، ہیں اس کی زبان سے نکل گیا۔اسی قسم کا نمونہ ہماری جماعت کے بہت سے لوگوں کے دکھایا کہ تمہارا مال ، ہمارا مال اور ہمارا مال ہیں، ہیں، ہیں ، ہیں۔جب اپنے مال کا سوال آیا تو وہ خاموش ہو گئے۔حالانکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان تھا، جو ہماری جماعت کا ہوا۔مگر اس امتحان پر بہت سے لوگوں کے دل گھبرا گئے اور انہوں نے سمجھا کہ معلوم نہیں اب کیا ہو جائے گا ؟ میں یہ نہیں کہتا کہ ساروں نے ایسا نمونہ دکھایا ہے۔بہت سے مخلص ایسے بھی ہیں، جنہوں نے اس آواز کے سنتے ہی اپنی جائیدادیں وقف کر دیں۔بلکہ بعض عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے اصرار کیا کہ ہم سے زیورات لے لئے جائیں۔میں نے کہا، ابھی ہم ایک پیسہ لینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔اس وقت صرف اس بات کا مطالبہ ہے کہ اپنی جائیدادوں کو وقف کرنے کا اقرار کیا جائے۔یہ مطالبہ نہیں کہ اپنی جائیدادیں فروخت کر کے دے دی جائیں۔بعض عورتوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے، کسی اور ضرورت پر ہم سے یہ زیور فروخت ہو جائے ، اس لئے ابھی ہم سے لے لیا جائے۔مگر میں نے کہا، اب ہم کسی سے کوئی روپیہ نہیں لے رہے۔ایک اور عورت کا ذکر ہے، وہ آئی اور اس نے کہا میراز یورلے لیا جائے مگر جب اسے یہ جواب دیا گیا تو وہ میری ایک بیوی سے کہنے لگی، آپ میر از یورا اپنے پاس امانتا رکھیں اور جب مطالبہ ہو، اس وقت دے دیں۔میں اپنے پاس نہیں رکھتی ہممکن ہے کسی اور ضرورت پر خرچ ہو جائے۔تو کئی مردوں اور عورتوں نے اپنے اخلاص کا نہایت ہی اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے اور جہاں تک میں سمجھتا 505