تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 504

اقتباس از تقریر فرموده 109 اپریل 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم بسر کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو ہم کس طرح یہ امید کر سکتے ہیں کہ خدا ہمیں ابدی حیات میں اپنی دائمی رضا اور دائمی جنت کا وارث بنائے؟ اگر ہم اپنی زندگی کے چالیس یا پچاس سالوں میں ، جو کام کے سال ہوتے ہیں، اپنی ایک حالت نہیں رکھتے۔کبھی خدا کے دین سے محبت کرتے ہیں تو کبھی اس سے اپنا منہ پھیر لیتے ہیں۔کبھی اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار کھڑے ہوتے ہیں اور کبھی خیال کرنے لگتے ہیں کہ جان کون قربان کرے؟ جان قربان کرنا تو بڑی مشکل بات ہے۔کبھی ہمارے اعمال میں نیکیوں کا زور ہوتا ہے اور کبھی یوں معلوم ہوتا ہے کہ نیکی ہمارے قریب بھی نہیں پھٹی۔کبھی ہم خدا کو یاد کرتے ہیں اور کبھی اس کو بھول جاتے ہیں۔اگر ہم اپنی ساٹھ یا ستر یا اسی سالہ زندگی میں خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے متواتر اپنا قدم آگے بڑھانے کے لئے تیار نہیں تو ہم کس طرح یہ امید کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہم سے وہ سلوک کرے، جس میں متواتر انعامات اور متواتر برکات کا نزول ہو؟ اگر ہم صحیح رنگ میں کوشش نہیں کرتے ، اگر ہم ہمیشہ ترقی کی طرف اپنا قدم نہیں بڑھاتے تو ہمیں اللہ تعالیٰ سے بھی یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ جنت کے اعلی ترین انعامات یکے بعد دیگرے ہمیں حاصل ہوتے چلے جائیں گے۔جنت ہمارے اعمال کے مطابق تیار ہوگی۔تم اگر اپنے اعمال میں کبھی ست اور غافل ہو جاتے ہو اور کبھی ہوشیار۔تو تم اس بات کو ظاہر کرتے ہو کہ تمہارا منشا یہی ہے کہ خدا بھی کبھی تم پر انعام نازل کرے اور کبھی نازل نہ کرے کبھی جنت کے انعامات دے اور کبھی ان انعامات سے محروم کر دے۔پس یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ تم سے اللہ تعالیٰ کا ویسا ہی معاملہ ہوگا ، جیسا تم اس سے معاملہ کرو گے۔میں نے تم سے مطالبہ کیا کہ تم اپنی جائیدادیں خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر دو۔اس میں یہ کوئی شرط نہیں تھی کہ تم ابھی اپنی تمام جائیدادیں فروخت کر کے ہمیں دے دو۔یہ بھی کوئی شرط نہیں تھی کہ اس کا نصف یا اس کا چوتھائی ہمیں دے دو۔صرف اتنا مطالبہ تھا کہ تم دین کے لئے اپنی جائیدادوں کو اب وقف کر دو۔مگر یہ جائیدادیں تمہارے پاس ہی رہیں گی۔جب سلسلہ کے لئے ایسی قربانیوں کا وقت آیا ، جن کا بوجھ بیت المال برداشت نہ کر سکا یا جو ضروریات ہنگامی چندوں سے بھی پوری نہ ہوئیں تو اس وقت بحصہ رسدی ہر صاحب جائیداد سے مطالبہ ہوگا کہ وہ اس کے مطابق اپنی جائیداد دے یا اتنی رقم سلسلہ کو مبیا کرے۔ظاہر ہے کہ اس میں سر دست کوئی بوجھ جماعت پر نہیں ڈالا گیا تھا اور جس قربانی کا ان سے مطالبہ کیا گیا تھا ، وہ وہی تھی ، جس کا وہ خدا سے اقرار کر چکے تھے۔مگر ابھی ایک فیصدی جائیدادیں بھی ہماری جماعت نے وقف نہیں کیں۔اور بہت بڑی اکثریت ایسی رہتی ہے، جس نے اس تحریک کی طرف توجہ نہیں 504