تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 471
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1944ء اب تو یہ حالت ہے کہ حکیم فضل الرحمن صاحب کو باہر گئے ایک لمبا عرصہ گذر چکا ہے اور انہوں نے اپنے بچوں کی شکل بھی نہیں دیکھی۔جب وہ گئے تو ان کی بیوی حاملہ تھیں، بعد میں لڑکا پیدا ہوا اوران کے بچے پوچھتے ہیں کہ اماں ہمارے ابا کی شکل کیسی ہے؟ اسی طرح مولوی جلال الدین صاحب شمس انگلستان گئے ہوئے ہیں اور صدرانجمن احمد یہ اس ڈر کے مارے ان کو واپس نہیں بلاتی کہ ان کا قائم مقام کہاں سے لائیں؟ اور کچھ خیال نہیں کرتی کہ ان کے بھی بیوی بچے ہیں، جو ان کے منتظر ہیں۔ان کا بچہ کبھی کبھی میرے پاس آتا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر کہتا ہے کہ میرے ابا کو واپس بلا دیں۔پھر اتنا عرصہ خاوندوں کے باہر رہنے کا نتیجہ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ عورتیں بانجھ ہو جاتی ہیں اور آئندہ نسل کا چلنا بند ہو جاتا ہے۔ایک اور مبلغ باہر گئے ہوئے ہیں۔ان کے بچہ نے ، جو خاصا بڑا ہے، نہایت ہی درد ناک بات اپنی والدہ سے کہی۔اس نے کہا ، اماں دیکھو! ہمارا فلاں رشتہ دار بیمار ہوا تو اس کا بیٹا اسے پوچھنے کے لئے آیا۔تم نے ابا سے کیوں شادی کی، جو کبھی ہمیں پوچھنے بھی نہیں آیا ؟ اس نے بچپن کی وجہ سے یہ تو نہ سمجھا کہ اگر یہ شادی نہ ہوتی تو وہ پیدا کہاں سے ہوتا؟ اور اس طرح ہنسی کی بات بن گئی۔مگر حقیقت پر غور کرو تو یہ بہت ہی دردناک ہے۔اس کے والد عرصہ سے باہر گئے ہوئے ہیں اور ہم ان کو واپس نہیں بلا سکے۔پس یہ بہت ضروری ہے کہ مبلغین کو تین چار سال کے بعد واپس بلایا جائے اور ایک مبلغ کو واپس بلانے پر اگر وہ تھرڈ کلاس میں سفر کرے، دک پر یعنی کھلے میدان میں سوئے ، ہزاروں میل لاریوں میں سفر کرے تو بھی اس کا خرچ کم سے کم پندرہ سو روپیہ ہو گا اور اس کے قائم مقام کے جانے کا خرچ بھی اتنا ہی ہوگا۔اگر چھوٹی سے چھوٹی سکیم بھی جاری کی جائے اور ہر چار سال کے بعد مبلغین کو تبدیل کیا جائے تو بھی 75 ہزار روپیہ اس پر خرچ ہوگا اور اگر اس سے کم عرصہ کے بعد تبدیلی ہو تو اس سے بھی زیادہ خرچ ہوگا اور اس طرح اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر جماعت خوشی اور ہمت کے ساتھ قربانی کے لئے تیار نہ ہو تو انہیں پورا نہیں کیا جاسکتا۔پس آج میں خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے تحریک جدید کے دور ثانی کا اعلان کرتا ہوں اور پھر یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ علاوہ پرانے انصار کے نئے پانچ ہزار دوست اور آگے آئیں، جنہوں نے پہلے دور میں حصہ نہیں لیا اور ان میں سے ہر ایک کم سے کم ایک ماہ کی آمد کے برابر حصہ لے۔471