تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 470
خطبه جمعه فرمود 24 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم ہو جائے گی۔چھ سات ماہ تک یورپ کی جنگ ختم ہو جانے کی امید ہے اور اگر جرمنی کی طاقت کا خاتمہ ہو جائے تو جاپان زیادہ دیر تک مقابلہ نہ کر سکے گا اور اس طرح رستے کھل جائیں گے اور ہمیں چاہئے کہ اگلی جنگ، جس کے سامان دنیا پیدا کر رہی ہے اور جس کی خبر مجھے اللہ تعالیٰ نے دو سال ہوئے دے دی تھی اور جو میں یہاں بیان بھی کر چکا ہوں کو نام ظاہر نہیں کیے گئے اور چھپی ہوئی موجود ہے، اس کے شروع ہونے تک درمیانی وقفہ سے فائدہ اٹھا ئیں اور جتنا فائدہ اٹھایا جاسکے اٹھائیں۔اس کے علاوہ میں نے قرآن کریم کے تراجم کی تحریک بھی کی ہے، ان سے تبلیغ کو بہت مدد ملے گی۔مختلف زبانوں میں لٹریچر کا نہ ہونا تبلیغ کے رستہ میں بڑی روک تھی ، جو خدا تعالیٰ نے چاہا تو اب دور ہو جائے گی۔ایک اور روک یہ بھی رہی ہے کہ ہم مبلغین کو صرف اتنا ہی خرچ دیتے ہیں کہ وہ کھانا کھا سکیں۔انگلینڈ کے مبلغ کو خرچ ، اتنا ہی ملتا ہے کہ وہ روٹی کھا سکے یا مکان کی معمولی مرمت وغیرہ کرا سکے۔کرایوں وغیرہ کے لئے کافی رقم نہیں دی جاسکتی کہ سفر کرے اور اس طرح تبلیغ کے کام کو وسیع کرے اور جب کوئی مبلغ دورہ نہ کر سکے تو جانے کا فائدہ ہی کیا؟ پھر تبلیغ کے لئے کافی لٹریچر چاہئے اور ہم اب تک وہ بھی مہیا نہیں کر سکے۔اب تک تو یہ حالت ہے کہ ہم صرف مبلغ بھیج دیتے رہے ہیں مگر تبلیغ کیلئے کافی سامان مہیا نہیں کرتے۔گویا ہم صرف اسے اس لئے کسی بیرونی ملک میں بھیج دیتے ہیں کہ وہاں جا کر روٹی کھاؤ، یہاں کی ہو روٹی تمہیں ہضم نہیں ہو سکتی ، اس لئے انگلستان میں جا کر کھاؤ یا امریکہ میں جا کر کھاؤ۔گوامریکہ میں یہ حالت نہیں ، وہاں کی جماعت مبلغ کے دورہ کے اخراجات برداشت کر لیتی ہے مگر انگلینڈ میں ایسا نہیں۔پس ضروری ہے کہ جو مبلغ بیرونی ممالک میں جائیں، ان کے لئے کافی رقم سفر خرچ کے لئے مہیا کی جائے، کافی لٹریچر مہیا کیا جائے اور پھر سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ان کی واپسی کا انتظام کیا جائے۔ہر تیسرے سال مبلغ کو واپس بھی بلانا چاہئے اور پرانے مبلغوں کو بلانے اور نئے بھیجنے کے لئے کافی روپیہ مہیا کر نا ضروری ہے۔ابھی ہم نے تین نو جوانوں کو افریقہ بھیجا ہے ، وہ ریل کے تھرڈ کلاس میں اور لاریوں میں سفر کریں گے مگر پھر بھی 18،17 سورو پید ان کے سفر خرچ کا اندازہ ہے۔اگر ہم یہ اندازہ کریں کہ ہر سال 33 فی صدی مبلغ واپس بلائے جائیں گے اور 33 فیصدی ان کی جگہ بھیجے جائیں گے اور ہر ایک کے سفر خرچ کا تخمینہ پندرہ سو روپیہ رکھیں تو صرف یہی خرچ ایک لاکھ روپیہ سالانہ کا ہو گا اور یہ صرف سفر خرچ ہے اور اگر مبلغین کو چار چار سال کے بعد بلائیں تو یہ خرچ پھر بھی 75 ہزار روپیہ ہو گا اور کم سے کم اتنے عرصہ کے بعد ان کو بلانا نہایت ضروری ہے تا ان کا اپنا ایمان بھی تازہ ہوتا رہے۔ان کے بیوی بچوں کو اور خود ان کو بھی آرام ملے۔470