تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 34
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 اکتوبر 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد دوم تمہاری درمیانی نیکیوں کی کوئی غرض نہیں۔اگر تم بالفرض زندگی میں نیکیاں بھی کرتے رہے لیکن تمہارا انجام لَا إِلَهَ إِلَّا الله پرنہ ہوا تو پھر تم کسی اور طرف جاؤ گے اور میں کسی اور طرف جاؤں گا۔دنیا میں کوئی باپ ایسا نہیں جو یہ خواہش نہ رکھتا ہو کہ اس کی اولا د اس کے پاس رہے۔دنیا میں ہر انسان کے اندر یہ خواہش پائی جاتی ہے اور اگلے جہان میں بھی یہ خواہش موجود ہوگی۔بلکہ یہاں تو کئی قسم کی مجبوریوں کی وجہ سے اولا د اپنے ماں باپ سے جدا بھی رہتی ہے لیکن اگلے جہان میں ایسا نہیں ہوگا۔بلکہ وہاں اللہ تعالیٰ ماں باپ کی اس خواہش کا ایسا احترام کرے گا کہ اپنے عام قانون کو بھی بدل دے گا اور اولاد کو خواہ وہ ایمان کے کسی درجہ پر ہوں، ان کے ماں باپ کے پاس رکھے گا۔فرض کرو، جنت کے ایک کروڑ در جے ہوں اور بچہ تو دسویں حصے کا مستحق ہو اور باپ کروڑ ویں حصے کا، تو اللہ تعالیٰ اس خواہش کے احترام میں دس والے سے اٹھا کر کروڑ والے کے مقام تک پہنچا دے گا۔اور یہ برداشت نہیں کرے گا کہ باپ کو یہ صد مہر ہے کہ اس کا بچہ اس سے جدا ہے۔پس وہاں ماں باپ کی اس محبت کا انتہائی احترام کیا جائے گا اور بچوں کو اپنے ماں باپ کے پاس رکھا جائے گا اور اگر کسی کے بچے جنت کے اعلیٰ مقام پر ہوئے اور ماں باپ اونی مقام پر تو اللہ تعالیٰ ماں باپ کو بلند کر کے ان کے بچے کے پاس لے جائے گا۔بہر حال جذبات پدری اور جذبات مادری کا احترام وہاں انتہا تک پہنچا ہوا ہو گا۔حضرت یعقوب علیہ السلام اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ (البقرة:133) کہ اے میرے بیٹو! مرنے کے بعد ہم تو یہ امیدیں لگائے بیٹھے ہوں گے کہ ابھی ہمارے بیٹے ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم اکٹھے جنت میں رہیں گے۔لیکن اگر تمہارے اعمال اچھے نہ ہوئے تو ہماری یہ امیدیں دل ہی دل میں رہ جائیں گی اور تم تو کہیں جارہے ہو گے اور ہم کہیں جارہے ہوں گے۔اس لئے اے میرے بیٹو! تم میری اس وصیت کو یا د رکھو کہ جب تمہاری موت کا وقت آئے تو اس وقت تمہارا خاتمہ لَا إِله إِلَّا اللہ پر ہی ہونا چاہئے تاکہ ہم اگلے جہان اکھٹے رہیں اور ہم میں کوئی جدائی واقع نہ ہو۔تو انجام پر ہی سارا انحصار ہوتا ہے۔اسی لئے دوسرے کے لئے بہترین دعا یہ ہوتی ہے کہ خدا اس کا انجام بخیر کرے۔کیونکہ جس کی موت اچھی ہوگئی ، اس کی ساری زندگی اچھی ہوگی اور جس کی موت خراب ہو گئی ، اس کی ساری زندگی خراب ہو گئی۔پس جو لوگ تحریک جدید میں حصہ نہیں لے سکے ، ان کا فرض ہے کہ وہ اس تحریک میں حصہ لینے والوں کے لئے دعائیں کریں کہ خدا ان کا انجام بخیر کرے اور ان کی نیتوں اور 34