تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 449

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم زبان گومیری ہے مگر بلاوا اسی کا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1944ء سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- خطبہ جمعہ فرمود 24 نومبر 1944ء " آج سے دس سال قبل اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور اپنے کرم سے ایک فتنہ جماعت کے خلاف اٹھوایا تھا۔تھا تو وہ فتنہ مگر الہی منشاء اس کے اٹھائے جانے میں یہ تھی کہ اس کے ذریعہ سے جماعت میں بیداری اور ہشیاری پیدا ہو۔مولانا روم فرماتے ہیں۔ہر بلائیں قوم را حق داده اند اند زیر آن گنج کرم بنهاده یعنی مسلمانوں کے لئے جو بلا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے، اس بلا کے نیچے اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور احسان سے ایک بڑا خزانہ مخفی کر دیتا ہے۔اس وقت بیٹھے بٹھائے بغیر اس کے کہ ہماری طرف سے کوئی انگیخت ہو، احرار نے تمام پنجاب میں پرو پیگنڈا کر کے قادیان میں ایک بہت بڑا جلسہ کرنے کی تیاری کی اور بڑے زور شور سے اعلان کیا کہ وہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔بلکہ بعض نے یہاں تک کہا کہ وہ مقبرہ بہشتی اور ہمارے دوسرے مقدس مقامات پر حملہ کریں گے۔ایسے موقعہ پر قدرتی طور پر جماعت کو خود حفاظتی کی ضرورت تھی اور نظارت امور عامہ نے جماعت کے دوستوں کو اطلاع دی کہ وہ اس موقعہ پر قادیان جمع ہوں اور اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کا فرض ادا کریں۔یہ ایک جائز بات تھی۔قادیان ہمارا مقدس مقام ہے نہ کہ احرار کا۔قادیان ہمارا مرکز ہے نہ کہ احرار کا۔اور اس لئے اگر کسی شخص کو قادیان آنے کا حق ہے تو وہ احمدی ہے، کسی دوسرے شخص کا یہ مذہبی حق نہیں۔مگر اس وقت کی پنجاب گورنمنٹ نے یہ نرالا طریق اختیار کیا کہ باوجود اس کے کہ وہ اطلاع جو نظارت کی طرف سے احمدیوں کو قادیان میں جمع ہونے کی دی گئی تھی ، حکومت کی طرف سے یہ یقین دلائے جانے پر کہ وہ حفاظت کا انتظام پوری طرح کرے گی ہمنسوخ کر دی گئی تھی اور جماعتوں کو لکھ دیا گیا تھا کہ ان کے یہاں آنے کی ضرورت نہیں۔اچانک کریمنل لا امنڈ منٹ ایکٹ 449