تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 438
خطبہ جمعہ فرموده 10 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم وہ میری اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے خود بھی دوسروں کے لئے نمونہ پیش کریں گے اور اپنے حصہ کو بعض دوسری جماعتوں اور افراد کے لئے چھوڑ دیں گے اور اپنا موعودہ چندہ ان جماعتوں کے چندہ میں شامل کر دیں گے تا کہ انہیں بھی اس ثواب میں شامل ہونے کا موقعہ مل سکے۔اس تقسیم کے مطابق اٹھائیں اٹھائیس ہزار روپیہ کے ساتھ وعدے بن جاتے ہیں۔گو میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض حلقے ایسے ہیں، جن کی طرف سے اس سے بھی زیادہ چندہ وصول ہونے کی امید ہے۔گورداسپور کے ضلع کے متعلق میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس کا چندہ قادیان میں ہی شامل ہوگا۔پس گورداسپور کے ضلع میں سے جو دوست خواہش رکھتے ہوں کہ انہیں اس تحریک میں شامل ہونے کا موقعہ ملے، وہ اپنا چندہ مرکز میں بھجوا دیں، ان کا چندہ قادیان کے چندہ میں شامل کر لیا جائے گا۔میں نے بتایا ہے کہ بعض اضلاع سے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا تو مطلوبہ رقم سے بھی زیادہ رقم ان کی طرف سے جمع ہو جائے گی۔اور اس بات کی ضرورت بھی ہے کیونکہ تراجم کے خرچ کے متعلق میرا پہلے جو اندازہ تھا، وہ غلط ثابت ہوا ہے۔میں نے فی کتاب ایک ہزار روپیہ ترجمہ کے خرچ کا اندازہ لگایا تھا اور میں نے سمجھا تھا کہ چونکہ کتا میں چھوٹی بڑی ہوں گی ، اس لئے کسی کتاب کے ترجمہ پر پانچ چھ سو روپیہ خرچ آئے گا اور کسی پر ہزار یا اس سے زائد۔اور اس طرح مل کر ایک ہزار روپیہ فی کتاب ترجمہ کے خرچ کی اوسط نکل آئے گی۔لیکن میرا یہ اندازہ صحیح ثابت نہیں ہوا۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی کے متعلق میرا اندازہ تھا کہ چونکہ یہ چھوٹی سی کتاب ہے، اس لئے پانچ چھ سوروپیہ میں اس کا ترجمہ ہو جائے گا۔مگر میرے اندازہ سے اس کے حروف زیادہ نکلے اور اس طرح اس کے ترجمہ کا خرچ بڑھ گیا۔غرض تراجم کے متعلق جو انتظام کیا گیا ہے، اس کے متعلق اخراجات کا جو پہلا اندازہ تھا، اس زیادہ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔اسی طرح ” احمدیت کے متعلق میرا خیال تھا کہ اس کا ڈیڑھ ہزار روپیہ میں ترجمہ ہو جائے گا۔اور چھوٹی بڑی کتاب مل کر ایک ہزار روپیہ فی کتاب ترجمہ پر خرچ آجائے گا۔لیکن احمدیت کے ترجمہ کے متعلق مجھے ولایت سے یہ اطلاع آئی ہے کہ سات زبانوں میں اس کا ترجمہ اڑھائی سو پونڈ میں ہوگا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ پانچ ہزار روپیہ محض احمدیت کے ایک زبان میں ترجمہ کرنے پر خرچ ہو گا۔پس میرا اندازہ جوڈیڑھ ہزار روپیہ کا تھا، وہ غلط ثابت ہوا۔میں سمجھتا ہوں کہ گو ہماری طرف سے اٹھائیس اٹھائیس ہزار روپیہ کا ہی مطالبہ کیا گیا ہے لیکن * امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض حلقوں کی رقوم اس سے بڑھ جائیں گی اور اس طرح اندازہ سے 438