تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 437
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 10 نومبر 1944ء ہوں۔یہ ترجمہ اس حلقہ کے چندہ سے شائع کیا جائے گا کیونکہ پرتگیزی ہندوستان میں اسی علاقہ سے آئے تھے اور اب تک ان کی نو آبادیاں اس علاقہ میں موجود ہیں۔اسی طرح بمبئی اور مدراس وغیرہ سے ان علاقوں کی طرف جہاز جاتے رہتے ہیں، جہاں پرتگیزی زبان بولی جاتی ہے۔اسی طرح روسی زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ اور اس کی چھپوائی اور ایک اسلامی کتاب کے ترجمہ اور اس کی چھپوائی کا خرچ میں لاہور کے حلقہ کے ذمہ لگاتا ہوں کہ یہ علاقہ اس وقت کیمونسٹ تحریک کا مصنوعی یا حقیقی مرکز بنا ہوا ہے۔غرض سات زبانوں میں تراجم قرآن سات حلقوں کی طرف سے ہو گئے۔ایک حلقہ کی طرف سے صرف ایک زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ اور اس کی اشاعت کا خرچ ، اسی طرح ایک زبان میں کسی ایک کتاب کے ترجمہ اور اس کی اشاعت کا خرچ لیا جائے گا۔میں سمجھتا ہوں اگر وہ لوگ جنہیں زائد حصہ دیا گیا تھا، قربانی اور ایثار سے کام لیتے ہوئے اس موقعہ پر اپنے حق کو ترک کردیں تو یہ دوسرے لوگوں کی دلجوئی اور ان کی خوشی کا موجب ہوگا۔انہیں اللہ کی طرف سے جو ثواب ملنا تھا ، وہ تو مل گیا۔کیونکہ جب انہوں نے میری طرف سے ایک آواز کے بلند ہونے پر اپنا وعدہ لکھوادیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ثواب دے دیا۔پس اگر وہ اس موقعہ پر اپنے حق ترک کر دیں گے تو ہو اس سے ان کے ثواب میں کوئی فرق نہیں آسکتا اور نہ ان کے اخلاص میں اس سے کوئی کمی آئے گی۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جو وعدہ کیا تھا، اس کا ثواب خدا نے ان کو دے دیا۔اب اگر وہ چاہیں تو قربانی کر کے اپنے اس حق کو اوروں کے لئے ترک کر دیں تاکہ ان کے وہ بھائی، جواب تک اس ثواب میں شامل نہیں ہو سکے اور جن کے دل اس شوق سے تڑپ رہے ہیں کہ انہیں بھی اس تحریک میں شمولیت کا موقعہ ملے ، وہ بھی اس میں شامل ہو جائیں اور ان کے دل بھی اطمینان اور سکون حاصل کریں۔لیکن اگر وہ اپنے حق کو ترک کرنا نہ چاہیں تو پھر دوسرے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صبر سے کام لیں اور قرآن کریم کے کسی ترجمہ کی چھپوائی اور ایک کتاب کے ترجمہ اور چھپوائی پر کفایت کریں۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے نیکیوں میں حصہ لینے کے کئی اور راستے کھول دے گا۔بہر حال میں نے اپنا حق چھوڑ دیا ہے اور لجنہ اماءاللہ کو جو ایک زائد حق دے دیا گیا تھا، وہ بھی میں نے اس سے واپس لے لیا ہے۔باقی دوستوں کی طرف سے بعض درخواستیں آئی تھیں جن کو قبول کر لیا گیا اور چونکہ میں نے ان کے وعدوں کو منظور کر لیا تھا، اس لئے میں انہیں حکما تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنے حق کو چھوڑ دیں لیکن میں نے اپنی مثال ان کے سامنے پیش کر دی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ 437