تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 434
خطبہ جمعہ فرموده 10 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم گا اور چونکہ میں اس چندہ میں ساروں کو شامل کرنا چاہتا ہوں، اس لئے صوبہ سرحد میں صرف صوبہ سرحد اور اس کی جماعتیں شامل نہیں ہوں گی بلکہ صوبہ سندھ بھی شامل ہوگا۔اسی طرح بلوچستان کا علاقہ بھی اس میں شامل ہوگا۔پھر نہ صرف سندھ اور بلوچستان، صوبہ سرحد کے ساتھ شامل ہوں گے بلکہ جس قدر شمال مغربی اضلاع حلقہ لاہور میں شامل نہیں کئے جاسکے، وہ سب کے سب اس میں شامل ہوں گے۔چنانچہ جہلم ، گجرات، راولپنڈی، میانوالی کیمل پور، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان ، ملتان ، منٹگمری ، جھنگ، سرگودھا اور لائل پور تمام اضلاع اسی حلقہ میں شامل ہوں گے۔اسی طرح ریاست کشمیر بھی۔اسی طرح جس قدر اسلامی ممالک اس تحریک میں حصہ لینا چاہیں ان کا چندہ بھی اسی حلقہ میں شمار ہوگا۔مثلاً ایران، افغانستان، عراق، شام فلسطین اور مصر وغیرہ اسلامی ممالک کی طرف سے اگر چند آیا تو وہ بھی اسی حلقہ میں شمار کیا جائے گا۔اب گویا ایک قرآن قادیان والوں کے حصہ میں آگیا، ایک قرآن لجنہ اماءاللہ کے حصہ میں آ گیا، ایک قرآن حلقہ لاہور کے حصہ میں آ گیا، ایک قرآن حلقہ کلکتہ کے حصہ میں آگیا اور ایک قرآن صوبہ سرحد کے حصہ میں آگیا۔اب ربا دبلی ، دہلی میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک ترجمة القرآن کے متعلق اپنا حصہ لیا ہوا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے اور وہ بھی جماعت کے لئے اپنے اس حق کو چھوڑ دیں اور جو چندہ انہوں نے دینا ہے، وہ اس حلقے والوں کو دے دیں اور اس طرح قرآن کریم کے ایک ترجمہ کا خرچ اور قرآن کریم کے ایک ترجمہ کی چھپوائی کا خرچ، اسی طرح اسلامی کتب میں سے ایک کتاب کے ترجمے کا خرج اور ایک کتاب کی چھپوائی کا خرج دہلی والوں کے حصہ میں آ جاتا ہے۔اس حلقہ میں بعض ان اضلاع کو بھی شامل کرتا ہوں جو دوسرے حلقوں میں نہیں آسکے۔جیسے جالندھر، ہوشیار پور، لدھیانہ، انبالہ، ریاست ہائے پٹیالہ، نا بھ، مالیر کوٹلہ وغیرہ ہیں۔میں اس علاقے کو دہلی کے حلقہ میں ہی شامل کرتا ہوں۔اسی طرح یوپی اور بہار وغیرہ کا چندہ بھی حلقہ دہلی میں شامل سمجھا جائے گا۔گویا ہندوستان کا تمام شمالی اور مشرقی اور مغربی حصہ اس تحریک میں شامل ہو گیا۔اب صرف ایک ترجمہ رہ جاتا ہے، جس کے اخراجات کو پورا کرنا میں حیدرآباد کے حلقہ کے سپر د کرتا ہوں۔ایک ترجمہ قرآن کا خرچ زیر بحث تھا، وہ اب میں اس حلقہ کو دیتا ہوں۔گویا (1) ایک ترجمہ قادیان کی جماعت کی طرف سے ہوگا۔(2) ایک لجنہ اماءاللہ کی طرف سے۔434