تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 416
خطبہ جمعہ فرمودہ 03 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم افراد زیادہ ہیں اور وہ اس ذمہ داری کا بوجھ بغیر دوسری جماعتوں سے مشورہ کرنے کے خود اٹھا سکتی ہیں یا ان افراد کی طرف سے ہیں، جو صاحب توفیق ہیں اور یہ بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔قادیان کی جماعت کے متعلق مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ ایک ترجمہ کی جگہ وہ دو کا خرچ اپنے ذمہ لے گی اور لجنہ کا بھی جس رنگ میں چندہ ہو رہا ہے، اس رنگ میں دو کا بھی سوال نہیں بلکہ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا چندہ دو سے بھی بہت زیادہ ہوگا کیونکہ اس وقت تک لجنہ قادیان کی طرف چھ ہزار تین سو روپے کے وعدے آچکے ہیں اور ابھی ہزار بارہ سو روپیہ کے وعدوں کی اور امید ہے۔(خطبہ صاف کرتے وقت تک آٹھ ہزار سے زائد کے وعدے ہو چکے ہیں۔گو میں نے سارے ہندوستان کی لجنہ کے ذمہ جو ایک ترجمہ کا خرچ لگایا تھا، اس سے زیادہ کے وعدے قادیان سے ہی ہو چکے ہیں اور ابھی باہر کی ساری لجنا ئیں باقی ہیں۔اسی طرح قادیان کی جماعت کے علاوہ صدر انجمن کے کارکنوں نے بھی ایک ترجمہ کا خرچ اپنے ذمہ لیا ہے۔کارکنوں کے علاوہ دوسروں کے چندہ کا وعدہ ایک ترجمہ سے زیادہ کا ہو چکا ہے اور ابھی اور ہو رہا ہے۔اب ان جماعتوں یا افراد کی طرف سے، جن کا حصہ نہیں لیا جا سکا ، الحاح کی چٹھیاں آرہی ہیں اور وہ اصرار کے ساتھ لکھ رہی ہیں کہ ہمیں بھی اس چندہ میں حصہ لینے کا موقع دیجئے۔لیکن میں سات تراجم میں سے بارہ حصہ لینے والوں کو کس طرح موقع دے سکتا ہوں؟ میں یہ بھی نہیں کر سکتا کہ جو پہلے ہوں ، ان کو پیچھے کردوں، اس لئے کہ صرف وہی حصہ لے سکے گا۔جو قرب میں رہتا ہے، اس میں دخل نہیں دے سکتا۔اور کوئی صورت انسانی ذہن میں ایسی نہیں آسکتی کہ قرب میں رہنے والوں اور باہر رہنے والوں کو قربانی کا ایک سا موقع دیا جا سکے اور نہ ہی کوئی ایسی شرط لگائی جاسکتی ہے، جس سے دونوں برابر ہو جائیں۔فرض کرو، ہم یہ شرط لگا دیں کہ فلاں وقت کے بعد آ کر اپنے وعدے دے دیئے جائیں تو اس وقت بھی جو قرب میں رہتا ہوگا ، وہ دروازہ پر آ کر کھڑا رہے گا اور جب بھی وہ وقت ہوگا، اپنا وعدہ دے جائے گا۔پس ایسا کوئی ذریعہ نہیں، جس سے یہ خدائی فرق مٹ جائے۔اس کا مٹانا ناممکن ہے۔صرف بے وقوف یا خشک فلسفی، جنہوں نے روحانیت اور ایمان میں قدم نہیں رکھا، وہی اس قسم کی مساوات کا قائل ہو سکتا ہے، جس میں کوئی امتیاز باقی نہ رہے۔تعلیم کو ہی لے لیا جائے تو کیا سارے تعلیم حاصل کرنے والے ایک جیسی قابلیت اور ایک جیسے دماغ کے ہوتے ہیں؟ اور کیا سکول میں پڑھنے والوں میں سے سارے انٹرنس پاس کر لیتے ہیں؟ سارے لڑکے ایک ہی وقت میں ایک ہی استاد سے ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں مگر ان میں 416