تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 415
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 03 نومبر 1944ء تراجم قرآن مجید اور لٹریچر کے خرچ کی علاقہ وار تقسیم خطبہ جمعہ فرمودہ 03 نومبر 1944ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔دو تین دن سے مجھے پھر نقرس کی تکلیف ہوئی ہے۔پہلے یہ تکلیف ایک ایک پاؤں میں ہوا کرتی تھی ، اب دونوں میں ہوتی ہے۔اس وجہ سے خطبہ دینا مشکل تھا۔یہاں تک کہ مسجد میں آنا بھی مشکل تھا کیونکہ اس وقت بھی درد ہورہا ہے۔جوتی میں پاؤں ڈالنا بھی مشکل ہے مگر میں اس لئے چلا آیا ہوں کہ قرآن کریم کے تراجم کے لئے چندہ کی تحریک میں جونئی بات پیدا ہوگئی ہے، اس کے لحاظ سے بعض امور بیان کروں۔میں نے پچھلے خطبہ سے پہلے خطبہ میں (120اکتوبر کو ) قرآن مجید کے سات تراجم کے متعلق تحریک کی تھی۔جہاں تک اس کی کامیابی کا سوال تھا، مجھے اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس وقت تک خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ ہمیشہ یہ معاملہ رہا ہے کہ وہ جب کبھی میرے منہ سے کوئی بات نکلواتا ہے تو اس کی کامیابی کے سامان بھی کر دیتا ہے۔لیکن اس میں ایک نئی بات پیدا ہو گئی ہے کہ اس تحریک کے بعد جو درخواستیں آئی ہیں، وہ ہمارے مطالبہ سے بہت زیادہ ہیں۔ہمارا مطالبہ تھا،سات تراجم کے اخراجات کا اور درخواستیں آئی ہیں بارہ تراجم کے اخراجات کے لئے۔اور ابھی بیر ونجات سے چٹھیاں آرہی ہیں کہ وہ اس چندہ میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔جہاں تک وسیع علاقوں کا تعلق ہے اور جہاں جماعتیں پھیلی ہوئی ہیں، وہ علاقے چونکہ سب کے مشورہ کے بغیر کوئی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے ، اس لئے ان درخواستوں میں وہ شامل نہیں۔کیونکہ وہ جلدی مشورہ کر کے اتنے وقت کے اندر اطلاع نہیں دے سکتیں تھیں۔یہ درخواستیں صرف ان جماعتوں کی طرف سے ہیں، جو اپنی ذمہ داری پر اس بوجھ کو اٹھاسکتی تھیں یا افراد کی طرف سے ہیں۔مثلاً چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور ان کے بعض دوستوں کی طرف سے ، میاں غلام محمد صاحب اختر اور ان کے دوستوں کی طرف سے لاہور کی جماعت کی طرف سے، کلکتہ کی جماعت کی طرف سے، اور میاں محمد صدیق صاحب اور محمد یوسف صاحبان تاجران کلکتہ کی طرف سے ، ملک عبد الرحمان صاحب مل اونر قصور کی طرف سے اور سیٹھ عبداللہ بھائی سکندرآباد کی طرف سے۔یہ سب درخواستیں ان جماعتوں کی ہیں، جہاں یا یا 415