تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 390

اقتباس از خطبه عید الفطر فرموده 19 ستمبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پیدا ہو سکے اور تا وہ غریبوں کے ساتھ آسانی سے مل سکیں اور اس طرح جماعت کے غریب طبقہ کو ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی دین کے لئے اپنی جان کو قربان کرنے والے ہیں۔یا جو شخص امیر ہونے کے با وجود سادہ کھانا کھاتا ہے تا وہ دین کے لئے روپیہ بچا سکے تا غریبوں کے لئے اس کا دستر خوان وسیع ہو اور تا جماعت میں غریب اور امیر کے بے تکلفانہ میل جول کی روح پیدا ہو اور غریب طبقہ میں حرص و آز کے پیدا ہونے کا موجب نہیں بنتا، وہ گو اپنے گلے پر خنجر نہیں پھیرتا مگر پھر بھی وہ دین کے لئے اپنی جان کو قربان کرنے والا ہے“۔وو اس زمانہ میں حقیقی قربانی یہی ہے کہ انسان اسلام کے لئے اپنا مال ، اپنا وقت اور اپنے جذبات کو قربان کر دے۔اور جب ساری جماعت میں یہ حالت پیدا ہو جائے اور ہر چھوٹا بڑا، ہرا میر غریب اس قربانی کے لیے تیار ہو جائے جیسے رمضان سب امیروں اور غریبوں ، چھوٹوں اور بڑوں کے لیے یکساں ہوتا ہے تو پھر حقیقی عید آ سکتی ہے۔( مطبوع الفضل 23 ستمبر 1944ء) 390