تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 389

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم "2 حقیقی قربانی اقتباس از خطبه عید الفطر فرمودہ 19 ستمبر 1944ء خطبہ عید الفطر فرمودہ 19 ستمبر 1944ء اپنے علم کو اپنے مالوں کو اور اپنے اوقات کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ سو آدمی اپنے گلوں پر بنجر پھیر لیں تو اس سے اسلام کو طاقت حاصل ہو جائے گی تو یہ ایک پاگل پن کی بات ہے اور بے دینی ہے۔دین کے لئے قربانی کے یہ معنی نہیں کہ اپنے گلے کاٹ لئے جائیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے لئے موت کی جورا ہیں اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تجویز کی ہیں، اسے اختیار کیا جائے اور ان راہوں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے اموال دین کے لئے خرچ کئے ا جائیں۔مگر دیکھ لو، ابھی جماعت میں کتنے لوگ ہیں، جو اس راہ میں کوتاہی کرتے ہیں اور بہانے بنا کر پیچھے ہنا چاہتے ہیں؟ اس زمانہ میں اگر کوئی شخص مالی قربانی کرنے سے گریز کرتا ہے تو اس کا خنجر سے اپنا گلا کاٹ لینا اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اسی طرح ایک اور راہ قربانی کی تبلیغ ہے۔ایک انسان اپنے آپ کو ہمہ تن تبلیغ میں لگا کر بھی دین کے لئے موت قبول کر سکتا ہے۔دن میں یا رات میں اپنی ڈیوٹی سے تھکا ہوا جب فارغ ہو کر آتا ہے تو اسے خدا تعالی کا حکم ملتا ہے کہ دین اسلام بے کس ہے ، مشکلات میں ہے ، اس لئے تبلیغ کرو۔اگر تو وہ کہتا ہے کہ میں تو اب تھکا ہوا آیا ہوں، اس وقت مجھے اپنے بیوی بچوں میں گزارنا لازمی ہے، مجھے آرام بھی کرنا چاہئے اور اس واسطے وہ تبلیغ نہیں کرتا تو اس کے معانی یہ ہیں کہ وہ جان کی قربانی کرنے سے گریز کرتا ہے۔مثلاً غیر ممالک میں تبلیغ کرنے کے لئے نوجوانوں کی ضرورت ہے اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ نوجوان آگے آئیں تو اگر تو جماعت سو، دوسو یا ہزار دو ہزار جتنے بھی نو جوانوں کی ضرورت ہے، پیش کر دیتی ہے تو گویا اس نے قربانی کا حق ادا کر دیا۔لیکن اگر ضرورت پوری نہیں ہوتی تو ساری جماعت گناہ گار ہوگی۔کیونکہ اس کے معانی یہ ہوں گے کہ جماعت قربانی کے لئے تیار نہیں۔اسی طرح اور بھی بیسیوں صورتیں جائز رنگ میں دین کے لئے موت قبول کرنے کی ہیں۔اسی طرح جو نو جوان اپنے آپ کو مروجہ مغربی فیشن کا شکار ہونے سے بچاتے ہیں، ٹائی اور سوٹ کے یک رنگ ہونے کی فکر میں وقت ضائع نہیں کرتے اور سادگی اختیار کرتے ہیں تا نمازوں میں آسانی 389