تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 386

خطبه جمعه فرموده 04 اگست 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم پس واقفین میں سے ایک طبقہ تو اس قسم کا ہے کہ اس کو وقف کی حقیقت کا علم نہیں۔دوسرا طبقہ اس کا قسم کا ہے کہ انہوں نے اخلاص سے اپنے نام پیش کیے ہیں لیکن ان کے حالات ایسے نہیں کہ ان کا وقف مفید ہو سکے کیونکہ یا تو وہ مفید کاموں پر لگے ہوئے ہیں یا ان کا اس جگہ سے ہٹانا ، ان کے لیے اور ان کے خاندان کے لیے ٹھوکر کا موجب ہو گا۔اور طاقت اور قوت اور عمر کے لحاظ سے ان کو کام سپر د کرنا، ایسا ہی ہے، جیسے لنگڑے آدمی کو دوڑنے کے لیے کہا جائے۔اس دوڑ میں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے، جن کی دونوں ٹانگیں سلامت ہوں۔اگر ہم ایسے آدمی کو دوڑنے کا حکم دیں، جس کی دونوں ٹانگیں ماری ہوئی ہوں یا ایک ٹانگ ماری ہوئی ہو، یہ چیز ہماری کم عقلی پر دلالت کرے گی کہ ہم نے صحیح انتخاب نہیں کیا۔پس اگر اس قسم کے آدمیوں کو نکال دیا جائے تو چار پانچ سو میں سے صرف چالیس پچاس یا ساٹھ ستر واقفین ایسے رہ جاتے ہیں، جو تمام شرائط کے مطابق اتریں گے۔لیکن جو کام ہمارے سامنے ہے، اس کے لیے سینکڑوں بلکہ ہزاروں آدمیوں کی ضرورت ہے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وقف کے لیے ایسے نوجوانوں کو تیار کریں کہ ایک تو ان کی عمر تمہیں سال سے کم ہو اور دوسرے جسم کے لحاظ سے ایسے مضبوط ہوں کہ علم حاصل کر سکتے ہوں۔تیسرے یہ کہ عربی یا انگریزی کے گریجوایٹ ہوں تا ان کو جلدی ٹریننگ دے کر تیار کیا جاسکے۔ہم نے اس سال انٹرنس پاس بھی لیے ہیں اور مدرسہ احمدیہ کے ساتویں پاس بھی لیے ہیں، کیونکہ فوری ضرورت ہے۔اب کیونکہ تہیں چالیس نو جوان پڑھائی کرنے والے ہو گئے ہیں، اس لیے آئندہ وقف کے لیے شرط یہ ہے کہ یا عربی کا گریجوایٹ ہو ( ہمارے نقطہ نگاہ سے عربی گریجوایٹ سے مراد مولوی فاضل نہیں۔مولوی فاضل کو ہم نے اس سال سے اڑا دیا ہے بلکہ گریجوایٹ سے اپنی یونیورسٹی کا گریجوایٹ مراد ہے یعنی جو جامعہ کی چار جماعتیں پاس ہو یا پھر پنجاب یونیورسٹی کا گریجوایٹ ہو۔ہاں اگر کوئی ایسا طالب علم اپنا نام پیش کرے، جو بھی تعلیم حاصل کر رہا ہے تو تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کو بھی لے لیا جائے گا۔لیکن اس کا فرض ہوگا کہ وہ اپنے طور پر تعلیم مکمل کرے اور تعلیم کا خرچ خود برداشت کرے۔سلسلہ اس کی تعلیم کا بوجھ نہیں اٹھائے گا کیونکہ اگر اس طرح اس پر روپیہ خرچ ہوتا رہے تو آئندہ تبلیغ کے رستہ پر چلنا مشکل ہو جائے گا۔تیسرے میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ تحریک جدید کے پہلے دور کی قربانی ابھی ابتدائی قربانی ہے، جس میں زیادتی کی گنجائش ہے۔تحریک جدید کے دوسرے دور کا اعلان تو میں انشاء اللہ نومبر میں کروں گا۔جس میں دوسرے دور کے قواعد وغیرہ بیان کروں گا۔اس وقت میں جماعت کے کارکنوں اور 386