تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 26
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 جون 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ذریعہ پوری ہوتی یا زرتشتیوں اور بدھوں کے ذریعہ پوری ہوتی یا یہ ان مسلمانوں کے ذریعہ پوری ہوتی جو پہلے ہی ایک مامور کا انکار کر کے اپنے آپ کو اسلام کی صحیح تعریف سے خارج کر چکے ہیں؟ اس پیشگوئی کا مفہوم یہ ہے کہ یہ زمانہ اس قدر منافقت کا ہوگا اور شیطان کا ایسا غلبہ ہو گا کہ انسان رات کو مومن سوئے گا اور صبح کو کا فر اٹھے گا۔مگر اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا بھی ایسا جوش اس زمانہ کے لئے رکھا ہے کہ رات کو ایک شخص کا فرسوئے گا اور صبح کو مومن اُٹھے گا۔گویا ایک طرف سے اگر پانی نکلے گا تو دوسری طرف سے ذخیرہ پورا بھی ہوتا رہے گا۔اور جب خصوصیت سے اس زمانہ کے متعلق یہ پیشگوئی ہے تو اس امر کی کتنی ضرورت ہے کہ ہم ہر وقت یہ اعلان کریں کہ ہم کون ہیں؟ تا کسی کو ہمارے متعلق شبہ نہ رہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے حکم سے دن میں پانچ بار اذان کا حکم دیا۔(یادر ہے کہ اذان الہامی ہے جبکہ بعض صحابہ کو بھی رؤیا میں اس کے الفاظ سکھائے گئے تھے۔) اور اس کے ذریعہ مسلمان دن میں پانچ مرتبہ اپنے عقائد کا اعلان کرتے ہیں۔مؤذن ہر مرتبہ دنیا کو بتاتا ہے کہ اس رات سے اٹھنے کے بعد بھی میں مومن ہوں اور اب بھی میرا عقیدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے کام کاج میں لگ جاتا ہے اور قسم قسم کے ابتلا اس کے سامنے آتے ہیں۔کئی لوگ اسے فریب دینا چاہتے ہیں اور غیر مذاہب کے لوگ بھی آ آکر طرح طرح کی باتیں اس سے کرتے ہیں اور اسے اپنے عقائد سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر جب ظہر کا وقت ہوتا ہے تو وہ پھر کھڑا ہو کر اعلان کرتا ہے کہ بے شک میرے سامنے کئی لالچ آئے ، لوگوں نے مجھے ورغلانا چاہا مگر پھر بھی میرا عقیدہ وہی ہے جو صبح تھا۔پھر عصر کا وقت آتا ہے جب وہ کام کاج سے تھک جاتا ہے اور تکان سے چور ہو جاتا ہے۔کاروبار کے گھاٹے اس کے سامنے آتے ہیں، کئی قسم کی مایوسیاں پیدا ہوتی ہیں اور اس وقت مسلمان کھڑا ہو کر پھر وہی فقرے دہراتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ گویا عصر کا وقت آ گیا مگر میرے ایمان میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔اس کے بعد اندھیرا ہو جاتا ہے اور دنیا میں ایک تغیر ہوتا ہے یعنی دن کے بعد رات شروع ہو جاتی ہے مگر وہ پھر اعلان کرتا ہے کہ گورات آگئی اور دنیا میں اندھیرا ہو گیا مگر اب بھی میرا وہی عقیدہ ہے جو صبح تھا، میرے ایمان اور عقائد میں کوئی تغیر نہیں آیا۔پھر عشاء ہوتی ہے ، لوگ سونے لگتے ہیں، نئی نئی امیدیں باندھتے ہیں کہ آج کا روبار میں گوگھانا ہوا مگر صبح یوں کام کریں گے۔اس کے ساتھ چور، ڈاکو اور قاتل اپنے دلوں میں برے منصوبے سوچنے میں مشغول ہوتے ہیں مگر اس وقت بھی مسلمان 26