تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 375
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ,, وقف کی حقیقت کو سمجھیں اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 26 مئی 1944ء خطبہ جمعہ فرمودہ 26 مئی 1944ء د۔۔۔سب سے پہلی بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے زندگیاں وقف کی ہیں، ان میں سے بعض کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ وہ پچیس مئی تک انٹرویو کے لیے قادیان پہنچ جائیں تا کہ ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ سلسلہ ان کا وقف قبول کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں یا سلسلہ انہیں کس کام پر مقرر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس سلسلے میں بعض لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا تھا، وقت پر حاضر نہیں ہوئے۔میں تحقیقات کروں گا کہ ان کے وقت پر حاضر نہ ہونے کی ذمہ داری تحریک جدید کے دفتر پر ہے یا ان پر ہے۔اگر تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہوا کہ اس کی ذمہ داری دفتر تحریک جدید پر ہے اور اس نے میرے کہنے کے باوجود ان لوگوں کو اطلاع نہیں دی تو اس صورت میں اس کی سرزنش اور پرسش کا مستحق دفتر تحریک جدید ہوگا۔لیکن اگر یہ ثابت کی ہوا کہ ان لوگوں کو اطلاع تو مل گئی تھی مگر باوجود اطلاع مل جانے کے وہ نہیں آئے اور کم سے کم انہوں نے یہ اطلاع بھی نہیں دی کہ ہم وقت پر فلاں مجبوریوں کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے۔تو ایسے احمدی، جنہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا تھا، انہیں یا درہنا چاہیے کہ اب ان کو انٹرویو کے لیے نہیں بلایا جائے گا بلکہ ان کو اس لیے بلایا جائے گا کہ کیوں نہ ان کو اس جرم کی بناء پر سلسلہ سے خارج کر دیا جائے؟ میں بار ہابتا چکا ہوں کہ وقف جہاد کا ایک حصہ ہے۔ہر وہ شخص ، جو وقف کو کھیل سمجھتا ہے، وہ بے ایمانی پر مہر لگاتا ہے۔وہ اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کو در حقیقت سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں۔وہ ایک کھیل تماشہ سمجھ کر اس جماعت میں داخل ہوا تھا۔قرآن کریم میں نہایت وضاحت سے فرمایا گیا ہے ؟ میں حصہ لینے والے شخص کے لیے جہاد میں مرجانا یا فتح حاصل کر کے واپس لوٹنا، یہ دو ہی چیزیں ہیں۔اگر کوئی شخص موقعہ سے پیچھے بجتا ہے تو اللہتعالیٰ فرماتا ہے کہ دوزخ کے سوا اس کا کہیں ٹھکانا نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ آج اسلام ایسی مصیبت میں مبتلا ہے، جس کا اندازہ لگانا بھی انسانی قیاس اور واہمہ سے باہر ہے۔آج دنیا میں ہر شخص کے لئے ٹھکانہ ہے۔لیکن اگر ٹھکانہ نہیں تو محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے دین کے لئے“۔375