تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 369

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم ملفوظات فرموده 07 مئی 1944ء بڑی کوشش یہی رہی ہے کہ دوسرا فرنٹ قائم نہ ہو۔کیونکہ ایسی صورت میں گھر جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے عراق میں احمدیت مضبوط ہو جائے تو پنجاب سے افغانستان کی طرف اور عراق سے ایران کی طرف قدم بڑھایا جا سکتا ہے اور اس طرح دونوں ممالک احمدیت کے اثر کے نیچے آ سکتے ہیں۔اس لحاظ سے بھی کہ جب دونوں طرف سے دباؤ بڑھ جائے تو مقابلہ مشکل ہو جاتا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ ایرانی اور افغانی دونوں متحد ہیں۔ایران میں فارسی زبان بولی جاتی ہے اور گو وہ زیادہ تر شیعہ ہیں مگر فارسی زبان چونکہ ان کی مادری زبان ہے، اس لئے افغانستان سے انہیں خاص تعلق ہے۔کیونکہ افغانستان کے اوپر کے علاقہ میں جو افغان قبائل رہتے ہیں، وہ بھی فارسی النسل ہیں اور گو افغانستان کے مشرق میں پشتو زبان بولی جاتی ہے مگر شمال مغربی علاقہ میں فارسی زبان ہی بولی جاتی ہے اور یوں بھی اکثر افغان فارسی جانتے ہیں۔اس لحاظ سے ایران اور افغانستان آپس میں اتحاد ر کھتے ہیں۔پس ادھر پنجاب سے احمدیت کا زور بڑھتا جائے اور ادھر عراق میں احمدیت پھیلنی شروع ہو جائے تو افغانستان اور ایران دونوں کا احمدیت کو قبول کرنا بہت زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔پھر ان دونوں ممالک کے اتصال کی ایک یہ بھی وجہ ہے کہ عراق میں بھی کر دی قبائل ہیں اور ایران میں بھی کر دی قبائل ہیں۔اگر عراق کے کر دی قبائل احمدیت کی آغوش میں آجائیں تو نسلی اتحاد کی وجہ ایران کے کردی قبائل کے لئے احمدیت قبول کرنا کوئی مشکل امر نہیں رہے گا۔پس عراق اور ایران دونوں میں نسلی اتحاد ایسا پایا جاتا ہے کہ اگر ایک نسل میں احمدیت پھیل جائے تو قریب کی دوسری نسل کا بھی اس سے متاثر ہونا ایک یقینی امر بن جاتا ہے۔اسی طرح اگر صوبہ سرحد میں احمدیت پھیل جائے تو چونکہ ان لوگوں کی رشتہ داریاں افغانستان میں ہیں، اس لئے افغانستان بھی احمدیت کے اثر کے نیچے آجائے گا۔اس طرح ہمیں احمدیت کی اشاعت کے لئے ایک بہت بڑا مرکز مل سکتا ہے اور عراق میں احمدیت کا پھیلنا، ایران اور افغانستان دونوں کے لئے ہدایت کا موجب بن سکتا ہے۔پس ضروری ہے کہ عراق کی طرف بھی توجہ کی جائے۔اس وقت تک عراق میں احمدیت کی اشاعت کے متعلق کوئی کوشش نہیں کی گئی۔حالانکہ شام اور فلسطین کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔وہاں سال ڈیڑھ سال کام کرنے کے نتیجہ میں ہی خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی جماعت قائم ہوگئی تھی۔اگر عراق میں بھی مبلغ بھیجے جائیں تو وہاں جلد ہی ایک مضبوط جماعت قائم ہوسکتی ہے۔اب عراق میں احمدی تو ہیں مگر وہ ہندی ہیں اور ان کا عراق والوں پر اتنا اثر نہیں ہو سکتا، جتنا خود اہل ملک کا اثر ہوتا ہے۔اگر وہاں 369