تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 355

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء اب میں نے بڑی مشکل سے ان مبلغوں کو باہر نکالا ہے۔مگر ان میں سے اکثر ایسے مبلغ ہیں، جو پنجاب کے باہر اور کہیں کام نہیں کر سکتے۔حالانکہ سرحد میں تبلیغ کا خدا نے ایک بہترین ذریعہ یہ پیدا کر رکھا ہے کہ وہاں ہمارے شہداء نے اپنے خون سے سلسلہ کی صداقت کی وہ تحریر لکھ رکھی ہے ، جو ہزاروں لوگوں کی ہدایت کا موجب ہو سکتی ہے۔مگر افسوس اس زبان میں تبلیغ کی طرف توجہ ہی نہیں کی گئی۔اسی طرح سندھ میں تبلیغ کا بڑا میدان ہے مگر ہمارے پاس سندھی زبان کا ماہر کوئی مبلغ موجود نہیں۔اسی طرح گجراتی ، مرہٹی، تامل، تلنگو ، بنگالی، ہندی اور اڑیہ وغیرہ زبانیں جاننے والے ہمارے پاس کوئی مبلغ نہیں۔اگر دعوت و تبلیغ والے سوچتے کہ ہم یہ کیا کر رہے ہیں؟ تو وہ کب سے بیدار ہو چکے ہوتے اور انہیں محسوس ہوتا کہ وہ ایک غلط قدم اٹھارہے ہیں۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اور زبانوں کی طرف توجہ نہیں کی بلکہ کوئی ایسا مبلغ بھی تیار نہیں کیا، جو انگریزی میں عمدگی سے تقریریں وغیرہ کر سکے۔اس وقت دنیا میں ایک شور مچ رہا ہے اور بمبئی ، کلکتہ اور مدراس وغیرہ سے چٹھیاں آ رہی ہیں کہ ہماری طرف مبلغ بھیجے جائیں، جو انگریزی میں تقریریں کر سکیں۔مگر دعوت و تبلیغ والے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی انگریزی بولنے والا مبلغ نہیں۔پچاس سال سے کفر کے ساتھ جنگ لڑی جارہی ہے اور ابھی تک انہیں خیال ہی پیدا نہیں ہوا کہ ہم اپنے مبلغوں کو کس کس رنگ میں تیار کریں؟ سوتے ہوئے دیوؤں کے متعلق بھی مشہور ہے کہ انہیں چھ مہینے کے بعد ہوش آ جاتی ہے۔مگر یہاں پچاس سال گذر گئے اور ابھی تک آنکھ نہیں کھلی۔اب وقت آگیا ہے کہ اس رنگ میں کام کیا جائے۔چنانچہ میں جن واقفین زندگی کو تیار کر رہا ہوں ، ان کے متعلق میری ہی سکیم ہے کہ انہیں دنیا کی ایک ایک زبان کا ماہر بنادیا جائے تاکہ ہر زبان میں کام کرنے والے تحریک جدید کے مبلغ ہمارے پاس موجود ہوں اور ہم انہیں دنیا میں پھیلا کر اسلام کی اشاعت کا کام سرانجام دے سکیں۔ان واقفین کی تعلیم پر بہت سا وقت ضائع بھی ہوا ہے کیونکہ ہر چیز تجربہ سے حاصل ہوتی ہے۔لیکن اب چونکہ ایک تجربہ ہو چکا ہے، اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ جتنا وقت ان پر صرف ہوا ہے، آئندہ اس سے آدھے عرصہ میں نئے مبلغ تیار ہو جایا کریں گے۔اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے ہوں گے کہ ان میں سے کوئی جرمن زبان کا ماہر ہوگا، کوئی فرانسیسی زبان کا ماہر ہوگا، کوئی ڈچ زبان کا ماہر ہوگا، کوئی اٹالین زبان کا ماہر ہوگا، کوئی روسی زبان کا ماہر ہوگا، کوئی سپینش زبان کا ماہر ہوگا اور کوئی پرتگیزی زبان کا ماہر ہو گا۔اسی طرح ہندوستان کی زبانوں میں سے کسی کو اڑیہ زبان سکھائی جائے گی، کسی کو بنگالی زبان سکھائی جائے گی، کسی مرہٹی زبان سکھائی جائے گی، کسی کو تامل زبان سکھائی جائے گی، کسی کو تلنگو 355