تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 349

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء برداشت کر سکے۔میں سمجھتا ہوں اگر ہماری جماعت یہ فیصلہ کرلے کہ جیسے حضرت مسیح ناصری کی جماعت کے لوگ فقیر کہلانے لگ گئے تھے ، اسی طرح وہ خدا کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں تو یہ پانچ لاکھ روپیہ سالانہ کی رقم بڑی آسانی سے مہیا ہو سکتی ہے۔مگر یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر شخص کے دل میں اعلیٰ درجہ کا ایمان ہو، کچھ لوگ ایمان کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں، کچھ ادنی درجہ رکھتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں، جو درمیانی مقام پر ہوتے ہیں۔یہ حالات مد نظر رکھتے ہوئے جبکہ ابھی ہماری جماعت کو وہ مالی وسعت حاصل نہیں کہ ان اخراجات کو برداشت کر سکے، یہی صورت نظر آتی ہے کہ لوگ اپنے اپنے اخراجات پر باہر نکل جائیں اور خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کریں۔مثلاً مغربی افریقہ ہے۔میں نے اور ممالک کا ذکر کرتے ہوئے ، اس کو چھوڑ دیا تھا۔یہاں ہماری جماعت کے لئے ایک بہت بڑا تبلیغی میدان پڑا ہے اور پرانی اقوام دین کی باتیں سننے کے لئے پیاسی بیٹھی ہیں۔یہاں اخراجات بھی بہت کم ہیں۔پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ روپیہ میں آسانی سے گزارہ ہو سکتا ہے۔اور پھر ان لوگوں میں بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قربانی کرنے والے ہیں، باوجود جاہل ہونے کے، باوجود دینی تعلیم سے کورے ہونے کے اور باوجود موجودہ تہذیب و تمدن کی روشنی سے نا آشنا ہونے کہ وہ اتنی جلدی اپنے تبلیغی اخراجات برداشت کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہندوستان میں بھی لوگ اتنی جلدی تبلیغی اخراجات برداشت نہیں کرتے۔وہ فورا مدر سے قائم کر لیتے ہیں، مسجدیں بنا لیتے ہیں اور اخراجات کا بوجھ خود اٹھانے لگ جاتے ہیں۔پس بہت بڑی بیداری ہے، جو ان لوگوں میں پائی جاتی ہے اور قربانی کی روح ہے، جو ان میں نظر آتی ہے۔یہ علاقہ ہماری تبلیغ کے لئے بہت ہی مبارک ہے۔ہمیں وہاں روپیہ بھجوانے کی بہت کم ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ وہاں کی جماعتیں خود اپنے اخراجات برداشت کر لیتی ہیں۔ابھی ہمارے مبلغ نے لکھا ہے کہ اگر وہاں تبلیغ کے لئے جماعت کے دوستوں کو بھجوایا جائے تو چھ مہینہ کے بعد مقامی جماعتیں ان کے اخراجات برداشت کر لیں گی۔یہ لوگ ایسے ہیں، جیسے کوئی سخت پیاسا ہوتا ہے اور پانی کے لئے چاروں طرف دیکھ رہا ہوتا ہے۔دنیا نے ان لوگوں پر اس قدر مظالم کئے ہیں کہ اب وہ اس بات کی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کوئی آئے اور ان کی تعلیم وتربیت کا انتظام کر کے انہیں عزت و آبرو کے مقام تک پہنچائے۔اور یہ بات اسلام اور احمدیت کے سوا انہیں اور کسی جگہ میسر نہیں آسکتی۔افریقہ کے مغربی اور مشرقی، یہ دو علاقے ایسے ہیں، جن میں میرے نزدیک ہمیں اس وقت ایک سو مبلغ کی ضرورت ہے۔وہاں کا گزارہ 50 روپیہ ماہوار میں ہو جاتا ہے۔کچھ گزارہ ہمیں مبلغین کے اہل و عیال کو بھی دینا پڑتا 349