تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 348

ملفوظات فرموده کیم مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد دوم سولہ ہزار کا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ مبلغوں کے آنے جانے کے اخراجات کے لئے روپیہ کی ضرورت ہوگی یا جو مبلغ آئیں گے ، ان کی جگہ دوسروں کو بھیجنے کی ضرورت ہوگی۔بہر حال تینتیس بیرونی مبلغین کے سالانہ ذاتی اخراجات کو اور تینتیس مبلغ، جو مرکزی پہلے مبلغوں کے قائم مقام ہو کر جانے کے لئے رکھے جائیں گے۔ان کے اخراجات کو محفوظ رکھ کر ایک لاکھ چھیانوے ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ ہے۔افریقہ کے مختلف مشوں کا خرچ بھی کم سے کم ساٹھ ہزار روپیہ سالانہ رکھا جانا چاہئے۔گویا تین لاکھ بہتر ہزار روپیہ سے بیرونی ممالک میں ہم اقل ترین تبلیغ کر سکتے ہیں۔اگر ان میں بارہ لاکھ روپیہ ہندوستان کی تبلیغ کا بھی شامل کر لیا جائے تو پندرہ لاکھ بہتر ہزار اور مرکز کے اخراجات کو شامل کر کے پونے سترہ لاکھ روپیہ سالانہ اگر ہم تبلیغ پر خرچ کریں تو ہندوستان اور یورپ میں اقل ترین تبلیغ کی جاسکتی ہے۔لیکن تحریک جدید کی تو دس سالہ آمد ملا کر بھی اتنی نہیں کہ ان اخراجات کو صرف ایک سال کے لئے برداشت کر سکے۔یہ سال گزشتہ تمام سالوں سے اچھا رہا ہے مگر اس سال بھی جماعت کی طرف سے صرف سوا تین لاکھ روپیہ کے وعدے آئے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان وعدوں میں سے پورے کتنے ہوں گے؟ ( خدا تعالی کے فصل سے تین لاکھ اٹھارہ ہزار سے زائد وصول ہو چکا ہے)۔ابھی پچھلے سالوں کے وعدوں میں سے بھی پچاس ہزار روپیہ کی وصولی باقی ہے۔گویا اگر ہم تحریک جدید کی ایک سال کی ساری آمد بھی تبلیغ پر خرچ کر دیں تو ہم ہندوستان اور بیرون ہند میں اقل ترین تبلیغ بھی نہیں کر سکتے۔ابھی ہماری زمینوں سے اتنی آمد شروع نہیں ہوئی کہ یہ کمی پوری ہو سکے بلکہ ہمیں اپنی زمینوں کے لئے ابھی اچھے کارکن بھی میسر نہیں آ سکے۔اگر ان زمینوں کی اچھی پیداوار ہو تو ایک لاکھ روپیہ سالانہ کی اس ذریعہ سے بھی امید ہو سکتی ہے۔لیکن اگر ہم اس آمد کو تبلیغ کے جاری اخراجات پر خرچ کر دیں تو پھر ریز روفنڈ قائم نہیں ہو سکتا بلکہ اگر ہم تحریک جدید کا چندہ آئندہ سالوں میں جاری رکھیں ، تب بھی ہم نے تبلیغی اخراجات کا جواقل ترین اندازہ لگایا ہے، بمشکل اس کانواں حصہ پورا ہوسکتا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یورپ جیسا براعظم جس کی تمیں کروڑ سے زیادہ آبادی ہے، وہاں ایک لاکھ آدمیوں پر ایک مبلغ ہو تب صحیح طور پر تبلیغ ہوسکتی ہے۔گویا تیں کی بجائے ہمیں وہاں تین سو مبلغ رکھنے چاہئیں اور اگر امریکہ کو بھی شامل کر لیا جائے تو ان مبلغوں کی تعداد چھ سوتک بڑھانی پڑتی ہے۔ہندوستان، جو ہمارا مرکز ہے، یہاں در حقیقت ہمارا کم سے کم دو ہزار مبلغ ہونا چاہئے۔لیکن اگر ان باتوں کو دور کی باتیں سمجھ ہوتو بھی پانچ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کا اندازہ تو ایک معمولی بات ہے۔مگر ابھی ہماری جماعت میں اتنی وسعت نہیں کہ ان اخراجات کو پورا کر سکے یا ابھی اتنا قربانی کا مادہ نہیں کہ اس خرچ کو 348