تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 333

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم وو روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 14 اپریل 1944ء اقتباس از خطبه جمعه 14 اپریل 1944ء اللہ تعالیٰ بھی اس الہام میں اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم نے تو ابھی اس راستے کو طے ہی نہیں کیا، جس پر چل کر ان انعامات کے تم مستحق بن سکتے ہو۔مگر ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اس دن کو ، جو تمہاری فتح اور کامیابی کا دن ہے تمہارے قریب لا چکے ہیں۔پس روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے میری طرف سے جو کچھ ظاہر ہوتا تھا، اس کی تیاریاں آسمان پر مکمل ہو چکی ہیں مگر تم نے جو کچھ کرنا تھا ، اس کے لئے بھی کئی منزلیں طے کرنی باقی ہیں۔مجھے جب یہ الہام ہوا تو میں نے اس وقت سوچا کہ گو میں جماعت کو جلدی جلدی آگے کی طرف اپنا قدم بڑھانے کی تحریکات کر رہا ہوں۔جس پر بعض لوگ ابھی سے گھبرا اٹھے ہیں کہ کتنی جلدی جلدی نئی سے نئی تحریکیں کی جارہی ہیں، کبھی وقف جائداد کی تحریک کی جاتی ہے ہے، کبھی وقف زندگی کی تحریک کی جاتی ہے، کبھی کالج کی تعمیر کے لئے چندہ کی تحریک کی جاتی ہے۔مگر اللہ تعالی اس کو بھی ناکافی قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے، تمہارارہ بعید ہے۔یعنی ابھی تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔سفر ابھی بہت باقی ہے اور تمہارا اقدم خطر ناک طور پرست ہے۔حالانکہ میں نے جو کام کرنا تھا، وہ کر لیا، میرا ٹھیکہ پورا ہو گیا اور جو چیز میں نے تم کو دینی تھی ، وہ دے دی مگر تم ابھی اپنے کام کے لئے تیار نظر نہیں آتے۔اس مفہوم کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اس الہام کا ایک اور امر کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، گونزول الہام کے وقت میں نے اس کے وہی معنی سمجھے تھے، جو میں نے ابھی بیان کئے ہیں۔لیکن پھر بھی اس الہام کا ایک اور مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن وہ بھی اپنی ذات میں کوئی خوش کن نہیں۔یعنی اس الہام کا ایک مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ہر شخص جو تم میں سے اسلام کو اور احمدیت کی ترقی کے لئے کوشش کر رہا ہے ، اس کی یہ کوشش اتنی تھوڑی اور اس قدر کم ہے کہ اس کی اس کوشش اور جدو جہد کے مقابلہ میں اس کی زندگی کے جس قدر ایام ہیں، ان میں ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔گویا تم میں سے ہر شخص جو کوشش آج اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے لئے کر رہا ہے، اگر مرتے دم تک وہ اسی رنگ میں کوشش اور جدو جہد کرتا رہے اور اپنا قدم تیز نہ کرے تو یہ کوششیں اس قدر کم ہیں کہ تمہارا یہ خیال کرنا کہ ان کا 333