تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 314

خطبہ جمعہ فرموده 31 مارچ 1944ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم بات پر ہو جائے گی کہ روپیہ آنے لگ گیا ہے، اب قربانی کی کیا ضرورت ہے؟ اس دن تم سمجھ لو کہ جماعت کی ترقی بھی ختم ہو گئی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ جماعت روپے سے نہیں بنتی بلکہ آدمیوں سے بنتی ہے اور آدمی بغیر قربانی کے تیار نہیں ہو سکتے۔اگر دس ہزار ارب روپیہ آنا شروع ہو جائے ، تب بھی ضروری ہوگا کہ ہر زمانہ میں جماعت سے اسی طرح قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے، جس طرح آج کیا جاتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ مطالبہ کیا جائے کیونکہ ابھی بڑی بڑی قربانیاں جماعت کے سامنے نہیں آئیں۔پس چاہے ایک ارب پونڈ خزانہ میں آجائے ،تب بھی خلیفہ وقت کا فرض ہوگا، وہ ایک غریب کی جیب سے، جس میں ایک پیسہ موجود ہے، دین کے لئے پیسہ نکال لے اور ایک امیر کی جیب سے، جس میں دس ہزار روپیہ موجود ہے، دین کے لئے دس ہزار روپیہ نکال لے۔کیونکہ اس کے بغیر دل صاف نہیں ہو سکتے اور بغیر دل صاف ہونے کے جماعت نہیں بن سکتی اور بغیر جماعت بننے کے خدا تعالیٰ کی رحمت اور برکت نازل نہیں ہوتی۔وہ روپیہ جو بغیر دل صاف ہونے کے آئے ، وہ انسان کے لئے رحمت نہیں بلکہ لعنت کا موجب ہوتا ہے۔وہی روپیہ انسان کے لئے رحمت کا موجب ہو سکتا ہے، جس کے ساتھ ہی انسان کا دل بھی پاک ہو اور دنیوی آلائشوں سے مبرا ہو۔پس مت سمجھو کہ اگر کثرت سے روپیہ آنے لگا تو تم قربانیوں سے آزاد ہو جاؤ گے۔اگر کثرت سے روپیہ آ گیا تو ہمارے ذمہ کام بھی تو بہت بڑا ہے۔ہم نے اسلام کی حکومت دنیا میں قائم کرنی ہے، ہم نے دنیا میں وہ نظام قائم کرنا ہے، جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے، ہم نے ہر شخص کے لئے کھانا مہیا کرنا ہے، ہم نے ہر شخص کے لئے کپڑا مہیا کرنا ہے، ہم نے ہر شخص کے لئے مکان مہیا کرنا ہے، ہم نے ہر بیمار کے لئے علاج مہیا کرنا ہے، ہم نے ہر انسان کے لئے تعلیم کا سامان مہیا کرنا ہے۔کیا یہ ساری چیزیں آسانی سے ہو سکتی ہیں؟ ان کے لئے تو اربوں ارب روپیہ کی ضرورت ہے بلکہ اگر اربوں ارب روپیہ آجائے تو پھر بھی یہ کام ختم نہیں ہو سکتا۔روپیہ ختم ہوسکتا ہے مگر یہ کام ہمیشہ بڑھتا چلا جائے گا۔پس کسی وقت جماعت میں اس احساس کا پیدا ہونا کہ اب روپیہ کثرت سے آنا شروع ہو گیا ہے، قربانیوں کی کیا ضرورت ہے؟ اب چندے کم کر دیئے جائیں۔اس سے زیادہ کسی جماعت کی موت کی اور کوئی علامت نہیں ہو سکتی۔یہ ایسا ہی ہے، جیسے کوئی شخص اپنی موت کے فتویٰ پر دستخط کر دے۔پس مت سمجھو کہ ان زمینوں اور جائیدادوں وغیرہ کی آمد کے بعد چندے کم ہو جائیں گے۔اگر یہ روپیہ ہماری ضروریات کے لئے کافی ہو جائے ، تب بھی تمہارے اندر ایمان پیدا کرنے کے لئے ، 314