تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 291

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 مارچ 1944ء مگر یہ یادر ہے کہ تعلیم اور کام کے متعلق ان کا کوئی دخل نہ ہوگا۔یہ کام ہمارا ہوگا کہ ہم فیصلہ کریں کہ کس سے کیا کام لیا جائے گا؟ بعض لوگ حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ جو تقریر اور تحریر کرے، وہی مبلغ ہے۔حالانکہ اسلام تو ایک محیط کل مذہب ہے۔اس کے احکام کی تکمیل کے لئے ہمیں ہر قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔وہی مبلغ نہیں، جو تبلیغ کے لئے باہر جاتا ہے۔جو سلسلہ کی جائیدادوں کا انتظام تندہی اور اخلاص سے کرتا ہے اور باہر جانے والے مبلغوں کے لئے اور سلسلہ کے لٹریچر کے لئے روپیہ زیادہ سے زیادہ مقدار میں کماتا ہے ، وہ اس سے کم نہیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک مبلغوں میں شامل ہے۔جو سلسلہ کی عمارتوں کی اخلاص سے نگرانی کرتا ہے، وہ بھی مبلغ ہے۔جو سلسلہ کے لئے تجارت کرتا ہے ، وہ بھی مبلغ ہے۔جو سلسلہ کا کارخانہ چلاتا ہے، وہ بھی مبلغ ہے۔جو زندگی وقف کرتا ہے اور اسے سلسلہ کے خزانہ کا پہرہ دار مقرر کیا جاتا ہے، وہ بھی مبلغ ہے۔کسی کام کی نوعیت کا خیال دل سے نکال دو اور اپنے آپ کو سلسلہ کے ہاتھ میں دے دو۔پھر جہاں تم کو مقر ر کیا جائے گا، وہی مقام تمہاری نجات اور برکت کا مقام ہوگا“۔غرض میں ایک تو اس امر کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا ہوں اور دوسرا حصہ اخراجات کا ہے، جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔میں نے جائیداد وقف کرنے کی تحریک کی تھی۔قادیان کے دوستوں نے اس کے جواب میں شاندار نمونہ دکھایا ہے اور اس تحریک کا استقبال کیا ہے۔بہت سے دوستوں نے اپنی جائیداد میں وقف کر دی ہیں مگر بیرونی جماعتوں کی طرف سے اس تحریک کا جواب ایسا شاندار نہیں بلکہ قادیان کی نسبت نصف بھی نہیں۔( بعد میں یہ بات درست ثابت نہیں ہوئی کئی دن کی ڈاک پڑی ہوئی تھی، جب اسے پڑھا گیا تو سینکڑوں وعدے اس سے نکلے ہیں مگر بھی بہت توجہ کی ضرورت ہے )۔پس میں بیرونی جماعتوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ دوست جائیدادیں وقف کریں۔یہ وقف جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا، اس صورت میں ہوگا کہ ان کی جائیداد ان ہی کے پاس رہے گی اور آمد بھی مالک کی ہی ہوگی اور وہی اس کا انتظام بھی کرے گا۔ہاں جب سلسلہ کے لئے ضرورت ہوگی، ایسی ضرورت، جو عام چندہ سے پوری نہ ہو سکے تو جتنی رقم کی ضرورت ہوگی، اسے ان جائیدادوں پر بحصہ رسدی تقسیم کر دیا جائے گا۔میں پہلے بھی اس تجویز کو بیان کر چکا ہوں لیکن اب پھر اسے بیان کر دیتا ہوں۔فرض کرو، ایک شخص کی جائیداد ایک ہزار کی ہے، دوسرے کی دس ہزار کی اور تیسرے کی ایک لاکھ کی ہے۔ایک کمیٹی مقرر کر دی جائے گی جو کسی ضرورت کے لئے اخراجات کا اندازہ کرے گی۔فرض کر وہ کمیٹی کا اندازہ یہ ہے کہ ایک لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے اور یہ رقم اتنی ہے کہ اگر ایک ایک فیصدی حصہ وقف شدہ جائیدادوں 291