تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 290

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 24 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم دین کا کام ان سے لیا جا سکے اور دین کے ان حصوں میں ، جن میں دنیوی تعلیم ممد ہوتی ہے، ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔مثلاً ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ادنی اقوام میں تبلیغ کے لئے ڈاکٹر بہت زیادہ مفید ہو سکتے ہیں بلکہ ان کے لئے ان سے بہتر مبلغ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔عیسائیوں نے ہسپتال کھول کر ہی چالیس لاکھ افراد کو عیسائی بنا لیا ہے۔مدراس میں، جو قریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے زیرنگین رہا ہے، مسلمانوں کا تناسب کل آبادی کا چھ فیصدی ہے مگر عیسائی بارہ فیصدی ہیں۔گویا ایک مسلمان کے مقابلہ میں دو عیسائی ہیں۔اور یہ ترقی انہوں نے صرف ایک صدی میں کی ہے کیونکہ ان کے ڈاکٹر اپنی زندگی کو خطرہ میں ڈال کر ان میں جا کر ہسپتال جاری کرتے اور ان کا علاج کرتے ہیں۔اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ جو ہم سے ہمدردی کرتے ہیں، ہم بھی ان کی باتیں سنیں۔اور چونکہ عیسائیت کی دینی تعلیم نور نبوت سے متمتع ہے، اس لئے مشرکانہ تعلیم کی نسبت اچھی ہے۔اور وہ لوگ جب اسے سنتے ہیں تو اس پر ایمان لے آتے ہیں۔لیکن ان کی بجائے اگر اسلامی ڈاکٹر ان کا علاج کریں اور ساتھ اسلام کی سادہ اور مساوات کی تعلیم ان کے گوش گزار کریں تو بہت جلد کامیابی ہو سکتی ہے۔عیسائی مشنریوں نے ان کو عیسائی تو بنا لیا مگر ان میں مساوات قائم نہیں کر سکے۔وہی چھوت چھات کے اثرات ابھی تک ہیں اور دوسری اقوام ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔مگر چونکہ اسلام میں جب ایک آدمی داخل ہوتا ہے تو ایسا پکا مسلمان بن جاتا ہے کہ پہلی قومیت بالکل مٹ جاتی ہے اور کوئی مسلمان اس کے ساتھ کھانے پینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔اسلامی تعلیم میں جو خوبیاں ہیں، اگر ڈاکٹر سے ادنی اقوام کے لوگوں کے سامنے پیش کریں تو لاکھوں کی تعداد میں ان کو داخل اسلام کیا جا سکتا ہے۔پس ایسے نو جوان بھی اپنی زندگیاں وقف کریں، جنہوں نے سائنس میں میٹرک پاس کیا ہو یا اس سال پاس ہونے کی امید ہو۔اسی طرح گریجوایٹ وغیرہ تا جو ڈاکٹری کے لئے مناسب ہوں ، انہیں ڈاکٹری کی تعلیم دلوا کر ادنی اقوام میں، جن تک ابھی تک اسلام کا نور نہیں پہنچا تبلیغ کے لئے بھیجا جا سکے اور جو دوسرے کاموں کے مناسب ہوں، انہیں دوسرے کاموں کے لئے تعلیم دلائی جائے۔ہندو ان لوگوں کو ابھی تک ذلیل سمجھتے ہیں، ان سے چھوت چھات کرتے ہیں، ان غریبوں کو غلام قرار دے رکھا ہے۔اس لئے جب ہمدردی سے ان کی خدمت کی جائے اور احسن رنگ میں اسلامی تعلیم ان کے سامنے پیش کی جائے تو عیسائیوں کی نسبت کئی گنا زیادہ کامیابی ہوسکتی ہے۔پس یہ رستہ بھی بند نہیں۔دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان بھی اپنے آپ کو وقف کر سکتے ہیں اور ان سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔290