تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 289
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 مارچ 1944ء انتظار نہیں کر سکتا۔اگر ہم سنتی سے کام لیں گے تو خدا تعالیٰ اپنے کام کے لئے کوئی اور انتظام کرے گا اور ہماری بدقسمتی پر مہر ہو جائے گی۔کاش ہمارے دل اس فرض کو پورے طور پر محسوس کریں ، اے عزیز و ! کاش ہمارے ایمان آج ہم کو شرمندگی سے بچالیں، کاش ہمارے جسم، ہماری روحوں کے تابع ہو کر ہمیں اپنا فرض ادا کرنے دیں، کاش ہمارے آج کے افعال قیامت کے دن ہم کو شرمساری اور روسیاہی سے بچالیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ ہر فرد آگے بڑھتا اور اپنی زندگی وقف کرتا مگر کم سے کم ایک حصہ تو آگے بڑھنا چاہئے۔میں مانتا ہوں کہ دوست چندہ میں قربانی کرتے ہیں مگر زندگی وقف کرنے کے لئے بہت کم لوگ آگے آئے ہیں۔ضرورت ہے کہ آئندہ مدرسہ احمدیہ میں زیادہ بچے داخل کرائے جائیں اور میں انجمن کو توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے رنگ میں ان کی تعلیم کا انتظام کیا جائے کہ چاہے مولوی فاضل وہ نہ ہو سکیں مگر دینی علوم کے ماہر بن جائیں۔ہمیں مولوی فاضلوں کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت یہ ہے کہ مبلغ مل سکیں۔مالی کمزوری کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہر سال تین نئے مبلغ رکھے جائیں مگر کئی سالوں سے ایک بھی نہیں رکھا گیا اور اب کئی سال کے بعد ایک رکھا گیا ہے۔حالانکہ کام کی وسعت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر سال ایک سو نہیں بلکہ دوسو مبلغ رکھے جائیں۔پس میں ایک تحریک تو یہ کرتا ہوں کہ دوست مدرسہ احمدیہ میں اپنے بچوں کو بھیجیں تا انہیں خدمت دین کے لیے تیار کیا جا سکے۔دوسری تحریک انجمن کو یہ کرتا ہوں کہ پڑھائی کی سکیم ایسی ہو کہ تھوڑے سے تھوڑے عرصہ میں زیادہ سے زیادہ دینی تعلیم حاصل ہو سکے اور اس رستہ میں جو چیز حائل ہو، اسے نکال دیا جائے۔مولوی فاضل بنانا ضروری نہیں ، جس نے ڈگری حاصل کرنی ہو ، وہ باہر چلا جائے۔اس دوغلا پن کو دور کرنا ضروری ہے۔دوکشتیوں میں پاؤں رکھنے والا کبھی ساحل پر نہیں پہنچا کرتا۔پس تعلیم کا انتظام ایسے رنگ میں کیا جائے کہ جلد سے جلد علماء نہیں مل سکیں۔فقہ تفسیر، حدیث ، تصوف اور کلام وغیرہ علوم میں ایسی دسترس حاصل کر سکیں کہ چوٹی کے علماء میں ان کا شمار ہو۔بلکہ دنیا میں صرف وہی علماء سمجھے جائیں اور اسلام کے ہر فرقہ اور ہر ملک کے لوگ اختلاف عقائد کے باوجود یہ تسلیم کریں کہ اگر ہم نے ان علوم کو سیکھنا ہے تو احمدی علماء سے ہی سیکھنا چاہئے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کا ایک حصہ تبلیغ میں حصہ لیتا ہے مگر ضرور ہے کہ اس طرف اور زیادہ توجہ کی جائے۔اب کے جو میں نے اعلان کیا تو دسویں جماعت کے پانچ طلباء نے بھی اپنے نام پیش کئے۔(اس کے بعد اور نو جوان میٹرک پاس نے وقف کیا اور بعض اعلی تعلیم یافتہ والوں نے بھی)۔دنیوی علوم حاصل کرنے والے نوجوان بھی اگر اپنے نام پیش کریں تو ان کو بھی ایسی تعلیم دی جاسکتی ہے کہ 289