تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 288
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 مارچ 1944 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم استاد بن جائے اور سب کے سب مختلف علوم میں کمال حاصل کر سکیں۔کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو اگر باری ری سارے علوم سکھائے جائیں تو ہو سکتا ہے کہ سب کے کامل ہونے تک وہ لوگ جماعت میں سے اٹھ جائیں ، جوان نو جوانوں کو تعلیم دیتے ہیں۔اس لئے ان کو گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے۔تین چار تفسیر قرآن سیکھنے میں لگ جائیں، تین چار حدیث سیکھنے میں ، تین چار تصوف سیکھنے میں، تین چار علم کلام کے سیکھنے میں اور تین چار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے سیکھنے میں اور چونکہ ان سب کو ان سب علوم کا سکھانا ضروری ہے۔اس لئے ان میں سے ہر ایک، ایک علم میں کمال حاصل کرنے کے بعد دوسرے کو سکھائے۔فقہ کے علماء ، حدیث کے علماء کو فقہ کی اعلی تعلیم دیں اور حدیث کے علماء ، فقہ کے علماء کو حدیث کی اعلی تعلیم دیں اور اس طرح باہم استاد شاگرد ہو کر مکمل علوم کے ماہر بن جائیں۔لیکن یہ سکیم پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکتی، جب تک ایسے افراد زیادہ تعداد میں نہ ہوں، جو دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔جسمانی کام ایک ایک آدمی سے بھی چل سکتے ہیں کیونکہ جسم کا فتح کرنا آسان ہے مگر روحانی کاموں کے لئے بہت آدمیوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے کیونکہ دلوں کا فتح کرنا بہت مشکل کام ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ ہمارے پاس اتنے معلم ہوں کہ ہم انہیں تمام جماعت میں پھیلا سکیں“۔و عملی قربانی کے لئے نو جوان آگے آئیں۔زمیندار طبقہ ہمارے ملک کی جان ہے، ان میں سے اور ان قوموں میں سے جو باہر سے ہندوستان میں آئی ہیں۔مثلاً پٹھان، قریشی ، سید مغل اور راجپوت وغیرہ اقوام میں سے بہت کم نوجوانوں نے زندگیاں وقف کی ہیں۔زیادہ تر ایسے نوجوانوں نے زندگیاں وقف کی ہیں، جن کا پشت پناہ جماعتی طور پر کوئی نہیں۔ایسی صورت میں بعض اوقات دشمن اعتراض کر سکتا ہے کہ جن لوگوں کے گزارہ کی کوئی صورت نہ تھی، انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دی۔گو یہ بات ہے تو جھوٹ۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ روح ہماری جماعت میں نہیں مگر کم سے کم دشمن کے لئے اعتراض کا موقع تو ضرور ہے۔اس لئے وہ اقوام ، جن کو اللہ تعالیٰ نے سیاسی عزت دی ہے، اگر اپنے فرائض کو ادا کریں تو ان کی عزت قائم رہ سکتی ہے۔اگر ان کے اندر قربانی کا مادہ پیدانہ ہوا تو ان کی عزت چھن جائے گی۔اس وقت دنیا میں ایسے انقلاب اور تغیرات ہونے والے ہیں کہ اگر ان قوموں نے ، جو اس وقت سیاسی طور پر معزز مجھی جاتی ہیں، اپنا حصہ قربانیوں کا ادا نہ کیا تو وہ گر جائیں گی اور وہ عزت پا جائیں گی ، جو اس وقت سیاسی طور پر معزز نہیں کبھی جاتیں“۔وپس میں تحریک کرتا ہوں کہ سیاسی طور پر معزز سمجھی جانے والی اقوام کے لوگ اپنے کو ، اپنی اولادوں کو دین کے لئے وقف کریں۔وقت بہت تھوڑا ہے اور کام بہت زیادہ ہے۔خدا تعالیٰ اب زیادہ 288