تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 287
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 مارچ 1944ء قربانی وہی فائدہ دے سکتی ہے، جو بشاشت کے ساتھ کی جائے خطبہ جمعہ فرمودہ 24 مارچ 1944ء کام بہت ہے اور وقت تھوڑا ہے، ہماری ذمہ واریاں بے انتہا ہیں اور مشکلات کا کوئی اندازہ نہیں اور آخر جس طرح بھی ہو، گرتے پڑتے ہمت سے کام کرنا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ہی چونکہ وہ کام کرنا ہے، اس لئے ہماری کوشش کتنی کم کیوں نہ ہو، یہ یقین ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ ہمیں اس کام کو پورا کرنے کی توفیق دے دے گا۔دو یا تین ہفتے ہوئے ، میں نے بیان کیا تھا کہ مجھے سلسلہ کی آئندہ ترقی کے متعلق بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر چونکہ ایک ہی خطبہ میں ان سب کا بیان کرنا ممکن نہیں، اس لئے آہستہ آہستہ مختلف خطبات میں ، میں انہیں بیان کروں گا۔اور حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک دن، جو دو جمعوں کے درمیان گزرتا ہے، ہمارے لئے مشکلات بڑھاتا جاتا ہے اور ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو جلد سے جلد ایسے رنگ میں منظم کرلیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی بنیاد دین کی اشاعت کے لئے قائم ہو جائے کہ جس پر آئندہ سہولت کے ساتھ عمارت بنائی جاسکے۔میں جس سکیم کی طرف سب سے پہلے توجہ دلانا چاہتا تھا، وہ جماعت میں علماء کے پیدا کرنے کے متعلق تھی۔میرا دل کانپ جاتا ہے، اس خیال سے کہ اس بارہ میں اس وقت تک ہم سے بہت بڑی کوتاہی ہوئی ہے۔چنانچہ میں نے کچھ عرصہ ہوا، یہ محسوس کیا کہ تحریک جدید کے واقفین کی تعلیم جس رنگ میں ہورہی ہے، اس طرح مکمل نہیں ہو سکتی۔اور میں نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا تا ایسے اصول پر ان کی تعلیم ہو سکے کہ وہ چوٹی کے علماء بن سکیں اور میں نے ان سے کہا کہ پہلے وہ صرف ونحو کی تعلیم حاصل کریں اور اس میں کامل بنیں کیونکہ یہ علم ہر دوسرے علم کے حاصل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔اب ان میں سے بعض طالب علم ایسے مقام پر ہیں کہ دو تین ماہ میں اسے مکمل کر سکیں گے اور پھر سے دوسروں کو پڑھانے اور سکھانے کی قابلیت ان میں پیدا ہو جائے گی۔اب اللہ تعالیٰ نے جو انکشاف مجھ پر فرمایا ہے، وہ یہ ہے کہ جب یہ لوگ صرف و نحو کی تعلیم مکمل کر لیں تو ان کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے۔بعض کو فقہ کی اعلیٰ تعلیم دلائی جائے، بعض کو حدیث کی، بعض کو تفسیر کی اعلیٰ تعلیم دلائی جائے اور اس طرح تین تین، چار چار کو مختلف علوم کی تکمیل کرائی جائے اور پھر پانچ چھ ماہ یا سال کے بعد وہ ایک دوسرے کو اپنے حاصل کردہ علوم کی تکمیل کرا دیں۔اور جو جو علم کسی نے سیکھا ہو، وہ دوسروں کو سکھا دیں اور اس طرح ان میں سے ہر ایک دوسرے کا شاگرد اور وو 287