تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 281
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 مارچ 1944ء کہ ہماری جائیدادیں آج سے خدا کے دین کی اشاعت کے لئے خرچ ہوسکتی ہیں، ہمارا انپر کوئی اختیار نہیں ہوگا۔یہ جائیدادیں گو ان کے پاس ہی رہیں گی مگر وقت آنے پر ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔اس دوران میں اگر وہ اپنی جائیداد میں کوئی تغیر وتبدل کریں تو ان کا فرض ہوگا کہ وہ ہمیں اس تبدیلی سے اطلاع دیں۔جب اسلام کی طرف سے قربانی کی آواز بلند ہوگی ، اس وقت اگر نصف کی ضرورت ہوگی تو نصف جائیداد لے لی جائے گی، ثلث کی ضرورت ہوگی تو ثلث جائیداد لے لی جائے گی ، پانچویں، ساتویں یا دسویں حصہ کی ضرورت ہوگی تو اس قدر حصہ کا مطالبہ کر لیا جائے گا۔مگر بہر حال یہ طوعی تحریک ہے۔میر احکم نہیں ہے کہ ہر شخص اس تحریک میں ضرور شامل ہو۔جو شخص ثواب کی خاطر اس تحریک میں شامل ہونا چاہے، اسے چاہیے کہ وہ اس میں جلد شامل ہو جائے اور اپنے نام سے ہمیں اطلاع دے تاکہ دین کے کاموں میں آئندہ کسی قسم کا رخنہ پیدا نہ ہو اور ہم دلیری اور جرات سے تبلیغ واشاعت کے کام میں ہر وقت حصہ لے سکیں۔پس آج اس خطبہ کے ذریعہ میں یہ اعلان کرتا ہوں تاکہ ساری جماعت میں یہ بات پھیل جائے اور اللہ تعالیٰ جس جس کو تو فیق عطا فرمائے ، وہ اس تحریک میں شامل ہوتا چلا جائے۔میں نے ابھی اس غرض کے لئے چونکہ کوئی کمیٹی مقرر نہیں کی ، اس لئے جو دوست اس تحریک میں شامل ہونا چاہیں، وہ اپنے اپنے ناموں سے مجھے اطلاع دے دیں اور اس امر سے بھی کہ ان کی کتنی جائیداد ہے جو اسلام کی اشاعت کے لئے وہ وقف کرنا چاہتے ہیں؟ جو دوست اطلاع دیں گے ، ان کا نام رجسٹر میں نوٹ کر لیا جائے گا۔اسی طرح تنخواہوں کے متعلق بھی براہ راست مجھے اطلاع دے دی جائے بعد میں جب رجسٹر بن جائیں گے تو ان کے نام وہاں درج کر دیئے جائیں گے۔اس اعلان کے بعد چند گھنٹوں میں چالیس لاکھ کے قریب کی قیمت کی جائیدادیں دوستوں نے وقف کر دیں۔فالحمد لله۔باہر کے دوستوں اور قادیان کے اور دوستوں کی درخواستوں کے بعد تعجب نہیں کہ کئی کروڑ روپیہ کاریز روفنڈ اس غرض کے لئے قائم ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کا رحم ان پر نازل ہو ، جو آگے بڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیں۔اللهم امین) اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم نہایت خوشی سے نہایت فرحت سے ، نہایت بشاشت اور دل کی ٹھنڈک سے اپنی ہر چیز ، اپنی جان بھی، اپنا مال بھی ، اپنی اولاد بھی، اپنی بیویاں بھی، اپنے عزیز اور رشتہ دار بھی ، اپنے جذبات اور احساسات بھی اور اپنے خیالات اور افکار بھی ، اپنے رب کے پاؤں پر قربان ا کر دیں اور اس راہ میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ اور تنگ دلی سے کام نہ لیں۔اللهم امین مطبوع الفضل 14 مارچ 1944ء) 281