تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 280
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 10 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم وقت پہلے عام چندے کی تحریک کی جائے گی، اس کے بعد چندہ میں جو کی رہ جائے گی ، اس کی کو یہ کمیٹی ان لوگوں پر نسبتی طور پر تقسیم کر دے گی، جنہوں نے اپنی جائیدادیں وقف کی ہوں گی اور ان کا اختیار ہوگا کہ وہ چاہیں تو نقد روپیہ دے دیں اور چاہیں تو اپنی جائیداد کو فروخت کر کے یا گرور کھ کر اتار و پیہ دے دیں۔گویا اسلام کی اشاعت کے لئے آئندہ یہ نہیں ہو گا کہ کہا جائے، ہمارے پاس اتنار و پیہ نہیں ، جماعت میں پہلے ایک عام تحریک کی جائے گی اور اس کے بعد جو کمی رہ جائے گی ، اس بار کو ہم لوگ اپنے اوپر لے لیں گے، جنہوں نے دین کے لئے اپنی جائیدادوں کو وقف کر دیا ہوگا۔اور جو کمیٹی مقرر ہوگی ، وہ جائیدادوں کے مطابق ہر ایک کا حصہ اسے بتادے گی۔مثلاً فرض کرو۔ایک شخص کی جائیداد ایک لاکھ روپے کی ہے اور دوسرے کی دس ہزار روپیہ کی۔تولاکھ روپے کی جائید ادرکھنے والے کے ذمے مثلاً کمیٹی دس حصے مقرر کر دے گی اور دس ہزار روپیہ کے ذمہ ایک حصہ۔اور ان کا اختیار ہوگا کہ وہ چاہیں تو اپنی جائیداد کو فر وخت کر کے یا گرور کھ کر ادا کر دیں۔بہر حال اس معاہدہ کے بعد ان کا کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ کہہ سکیں کہ ہم اپنی جائیداد کا اتنا حصہ دے سکتے ہیں، اتنا نہیں دے سکتے۔یہ کمیٹی کا اختیار ہوگا کہ ان سے جس قد رضرورت سمجھے مطالبہ کرے۔ان کا حق نہیں ہو گا کہ وہ انکار کریں۔اس اقرار کے بعد اگر کوئی شخص اس جائیداد کو فروخت کرنا چاہے تو چونکہ اس سے پہلے وہ اپنی جائیداد سلسلہ کو دے چکا ہوگا، اس لئے اس کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ جائیداد فر وخت کرتے وقت کمیٹی کو اطلاع دے کہ اس اس رنگ میں میں اپنی جائیداد کو بدلنے لگا ہوں تا کہ کمیٹی کو تمام جائیدادوں کے متعلق صحیح علم حاصل ہوتا رہے۔اور چونکہ کچھ لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ ان کے پاس جائیداد میں نہیں ہوتیں لیکن ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی کسی طرح ثواب میں شامل ہوں ، اس لئے وہ اگر چاہیں تو اس رنگ میں اپنا نام پیش کر سکتے ہیں کہ علاوہ دوسرے چندوں کو ادا کرنے کے جب کبھی اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے خاص قربانیوں کا مطالبہ ہوا، میں اپنی ایک مہینہ کی یاد و مہینہ کی یا تین مہینہ کی آمد دے دوں گا اور مجھے اور میرے بیوی بچوں کو خواہ کیسی ہی تنگی سے گزارہ کرنا پڑے، میں اس کی پروا نہیں کروں گا۔اس معاہدہ کے مطابق جب قربانیوں کا وقت آیا تو ان لوگوں سے ان کے وعدے کے مطابق ایک یا دو یا تین مہینہ کی آمد وصول کر لی جائے گی۔اور ان کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اس میں کسی قسم کا پس و پیش نہ کریں۔یہ دوصورتیں ہیں، جو اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے ضروری ہیں۔جو لوگ صاحب جائیداد ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ اپنی جائیدادیں دین کے لئے وقف کر دیں اور ہمارے پاس نوٹ کرا دیں 280