تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 279
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 10 مارچ 1944ء ہو جائے۔پس اگر اس حرص کو بڑھاتے چلے جائیں تو بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس کا کہیں خاتمہ نہیں ہوتا۔دنیا میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں، جن کی ماہوار آمد پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ لاکھ روپیہ ہے۔مگر پھر بھی وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس اور روپیہ آ جائے۔پس اللہ پر توکل کرو، دنیوی کا موں کو چھوڑ دو اور دین کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کردو۔اسلام اس وقت قربانی کا محتاج ہے اور سب سے پہلا حق اس قربانی کو ادا کرنے کا ہم پر ہے۔" اب میں ایک آخری اور ضروری بات کہہ کر اس خطبہ کوختم کرتا ہوں۔وہ بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اب اسلام کی فتح کی ایک نئی بنیا درکھ دی ہے تو یقینا اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے ہم سے نئی قربانیوں کا مطالبہ کرنے والا ہے۔میں نہیں جانتا کہ یہ آواز میرے منہ سے نکلے گی یا کسی اور شخص کے منہ سے نکلے گی۔میں یہ بھی نہیں جانتا کہ یہ آواز کس رنگ میں نکلے گی؟ لیکن بہر حال یہ آواز بلند ہونے والی ہے۔ہماری جماعت بے شک چندے دیتی ہے اور بہت دیتی ہے، قربانیاں کرتی ہے اور بہت کرتی ہے مگر یہ قربانیاں اسلام کی اشاعت کے لئے کافی نہیں۔پس میں تجویز کرتا ہوں اور اس تجویز کے مطابق سب سے پہلے میں اپنے وجود کو پیش کرتا ہوں کہ ہم میں سے کچھ لوگ جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے، اپنی جائیدادوں کو اس صورت میں دین کے لئے وقف کر دیں کہ جب سلسلہ کی طرف سے ان سے مطالبہ کیا جائے گا ، انہیں وہ جائیداد اسلام کی اشاعت کے لئے پیش کرنے میں قطعا کوئی غور نہیں ہوگا۔میں سب سے پہلے اس غرض کے لئے اپنی جائیداد وقف کرتا ہوں۔دوسرے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب ہیں۔انہوں نے بھی اپنی جائیداد میری اس تحریک پر دین کی خدمت کے لئے وقف کر دی ہے۔بلکہ انہوں نے مجھے کہا، آپ جانتے ہیں، آپ کی پہلے بھی یہی خواہش تھی اور ایک دفعہ آپ نے اپنی اس خواہش کا مجھ سے اظہار بھی کیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ میری جائیداد اس غرض کے لئے لے لی جائے۔اب دوبارہ میں اس مقصد کے لئے اپنی جائیداد پیش کرتا ہوں۔تیسرے نمبر پر میرے بھانجے مسعود احمد خان صاحب ہیں۔انہوں نے کل سنا کہ میری یہ خواہش ہے تو فورا مجھے لکھا کہ میری جس قدر جائیداد ہے، اسے میں بھی اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کرتا ہوں۔اس وقف کی صورت یہ ہوگی کہ ایک کمیٹی بنادی جائے گی اور جب وہ فیصلہ کرے گی کہ اس وقت اسلام کی ضرورت کے لئے وقف کرنے والوں کی جائیدادوں سے اس اس قدر رقم لے لی جائے ، اس 279