تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 278

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 10 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم کا امتحان لینا چاہے اور انہیں فاقے آنے شروع ہو جا ئیں۔تب بھی اس میں کون سی بڑی بات ہے؟ کیا لوگ دنیا میں فاقے نہیں کیا کرتے؟ اگر دنیا کے اور لوگ فاقے کر لیتے ہیں تو فاقہ کے ڈر سے ہمارے لئے دین کی خدمت کو چھوڑ نا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟“ " بہر حال یاد رکھو! خدا اپنے بندوں کو دیتا ہے اور ایسے طور پر دیتا ہے کہ بندہ لیتے لیتے تھک جاتا ہے۔پھر کیوں وہ خدا پر یقین اور توکل نہیں کرتے اور دنیوی کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ پر توکل کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان میں ہونے کی وجہ سے جس طرح ہم تینوں بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی ہے کہ ہم نے اپنی زندگیاں دین کے لئے وقف کر دی ہیں، اسی طرح وہ اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دیں، اپنی اولادوں کو خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دیں اور دنیوی کاموں کی بجائے دین کے کاموں اور اسلام کی احیاء میں حصہ لیں۔اگر وہ ایسا کریں گے تو اول تو میں انہیں بتاتا ہوں ، خدا انہیں فاقہ نہیں دے گا۔لیکن میں کہتا ہوں اگر خدائی مشیت کے ماتحت کسی وقت انہیں فاقہ بھی کرنا پڑے تو یہ فاقہ ہزاروں کھانوں سے زیادہ بہتر ہوگا۔اس وقت دین پر ایک آفت آئی ہوئی ہے۔اسلام یک مصیبت میں مبتلا ہے۔اس کا وہی نقشہ ہے، جو حضرت مسیح موعود نے ان الفاظ میں کھینچا ہے۔بے کسے شد دین احمد پیچ خویش و یار نیست ہر کسے درکار خود با دین احمد کار نیست پس اے ابنائے فارس ! تم کو یا درکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بیٹا قرار دیا ہے اور بیٹا اسی وجہ سے قرار دیا گیا ہے تا آپ کے خاندان کو معلوم ہو کہ وہ خویشوں میں سے ہیں اور ان سے زیادہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دین کی خدمت کریں گے۔پس تم رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خویشوں میں سے ہو۔تمہیں اوروں سے زیادہ دین کی خدمت کرنی چاہئے۔ہوتے مجھے تو اس بات کی کبھی سمجھ ہی نہیں آسکتی کہ اگر خدا نے دین کی خدمت کا کام کرتے ہوئے دنیوی لحاظ سے مجھے اپنے فضلوں سے حصہ دیا ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میری اولاد یا اولاد در اولاد دین کی خدمت کا کام کرے اور وہ فاقہ سے مرتی رہے؟ اگر وہ مومنانہ رنگ اختیار کریں تو تھوڑے روپیہ میں بھی آسانی سے گزارہ کر سکتے ہیں اور اگر حرص بڑھالیں تو پانچ یا دس ہزار روپیہ کمانے کی کیا شرط ہے؟ انسان کہتا ہے، مجھے ہیں ہزار روپیہ ملے۔جب میں ہزار روپیہ اکٹھا کر لیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے پاس پچاس ہزار روپیہ ہو جائے۔جب پچاس ہزار روپیہ ہو جاتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کے پاس ایک لاکھ روپیہ 278