تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 277
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 مارچ 1944ء ہم اپنی ہر چیز اپنے رب کے پاؤں پر قربان کر دیں خطبہ جمعہ فرمودہ 10 مارچ 1944ء میں اس مقام پر سب سے پہلے اپنے خاندان کو نصیحت کرتا ہوں کہ دیکھو ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کے اس قدر احسانات ہیں کہ اگر سجدوں میں ہمارے ناک گھس جائیں، ہمارے ہاتھوں کی ہڈیاں گھس جائیں ، تب بھی ہم اس کے احسانات کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری موعود کی نسل میں ہمیں پیدا کیا اور اس فخر کے لئے اس نے اپنے فضل سے ہمیں چن لیا ہے۔پس ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔دنیا کے لوگوں کے لئے دنیا کے اور بہت سے کام پڑے ہوئے ہیں مگر ہماری زندگی تو کلیۂ دین کی خدمت اور اسلام کے احیاء کے لئے وقف ہونی چاہئے۔مگر میں دیکھتا ہوں ہمارے خاندان کے کچھ افراد دنیا کے کام میں مشغول ہو گئے ہیں۔بے شک وہ چندے بھی دیتے ہیں، بے شک وہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں، بے شک وہ اور دینی کاموں میں بھی حصہ لیتے ہیں مگر یہ وہ چیز ہے، جس کی اللہ تعالیٰ ہر مومن سے امید کرتا ہے۔ہر مومن سے وہ توقع کرتا ہے کہ وہ جہاں دنیا کے کام کرے، وہاں چندے بھی دے، وہاں نمازیں بھی پڑھے ، وہاں دین کے اور کاموں میں بھی حصہ لے۔پس اس لحاظ سے ان میں اور عام مومنوں میں کوئی امتیاز نہیں ہو سکتا۔حالانکہ خدا ہم سے دوسروں کی نسبت زیادہ امید کرتا ہے۔خدا ہم سے یہ نہیں چاہتا کہ ہم کچھ وقت دین کو دیں اور باقی وقت دنیا پر صرف کریں۔بلکہ خدا ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی تمام زندگی خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر دیں۔حضرت داؤ د فرماتے ہیں۔میں نے آج تک کسی بزرگ کی سات پشتوں تک کو بھیک مانگتے اور فاقے کرتے نہیں دیکھا۔اس کے معنے یہی ہیں کہ سات پشتوں تک اللہ تعالیٰ خود اس خاندان کا محافظ ہو جاتا ہے اور پھر اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ جب سات پشتوں تک خدا خود اس خاندان کا محافظ ہو جاتا ہے تو اس خاندان کے افراد کا بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ کم سے کم سات پشتوں تک سوائے دین کی خدمت کے اور کوئی کام نہ کریں۔اگر وہ دنیا کے کام چھوڑ دیں تو اس کے نتیجہ میں فرض کرو ان کو فاقے آنے لگ جاتے ہیں تو پھر کیا ہوا ؟ سب کچھ خدا کی مشیت کے ماتحت ہوتا ہے۔اگر اس رنگ میں ہی کسی وقت اللہ تعالیٰ ان 277