تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 16

خطبہ جمعہ فرمودہ 105 اپریل 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اچھی ہے۔بعض لوگ نسبت نہیں دیکھتے بلکہ شان کا مقابلہ شان سے کرتے ہیں۔اور یہ نہیں سوچتے کہ جس خص کو دس روپیہ میں آٹھ روپیہ کا مال ملے وہ اچھا ہے یا جسے ایک پیسہ میں دو پیسہ کا مال مل جائے۔اس کے دس روپیہ میں ایسی نحوست ہے کہ اسے اس میں آٹھ روپیہ کا مال ملتا ہے اور ہمارے ایک پیسا میں اتنی برکت ہے کہ اس میں دو پیسہ کا مال ملتا ہے۔بے شک اس کے پاس روپے زیادہ ہیں مگر برکت تو ہمارے مال میں زیادہ ہے۔جن کی آنکھیں ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت ہر جہت سے ترقی کر رہے ہیں۔ہمارے نظام میں بھی بہتری پیدا ہورہی ہے۔اگر ہم قربانی اور ایثار میں ترقی کریں اور تبلیغ کو وسیع کریں تو وہ دن بھی دور نہیں جب حکومت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری ہوگی۔کیونکہ حاکم لوگ بھی تو آخر ہدایت کے محتاج اور خواہش مند ہیں۔لیکن اگر اس وقت ہمارے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت نہ ہوئی تو وہ دن برکت والے نہ ہوں گے اور ایک مومن تو اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ مرجائے ، بہ نسبت اس کے کہ اس کے دل سے خدا تعالیٰ کی محبت کم ہو جائے۔حضرت ابوذرغفاری ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی تھے۔ان کو دنیوی مال و دولت سے اس قدر نفرت تھی کہ جب مسلمانوں کو مال بکثرت ملنے لگے تو وہ ہر ایک سے لڑتے تھے کہ تم مال کیوں رکھتے ہو؟ آخر حضرت عثمان نے ان سے کہا کہ آپ کسی گاؤں میں جا بیٹھیں تا نہ یہ چیزیں دیکھیں اور نہ لوگوں سے لڑیں۔تو اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو ظاہری شان سے نفرت ہوتی ہے اور وہ صبر وقناعت میں ہی خوش رہتے ہیں۔مگر کامل مومن کا اصل مقام یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جس حال میں رکھے اس میں خوش رہے۔اگر خدا تعالیٰ لاکھوں روپے دے دے تو اس میں خوش رہے اور اگر بھوکا رکھے تو اس حالت میں بھی خوش رہے۔پس جماعت پر اللہ تعالیٰ کے جو فضل نازل ہو رہے ہیں اور جس مقام پر اس نے ہمیں کھڑا کیا ہے۔ہم سے جو کام لے رہا ہے اور جو لے گا ، اس کے پیش نظر کسی بھی قربانی کو بڑا نہ سمجھو۔ہماری قربانیاں اللہ تعالیٰ کے انعامات کے مقابلہ میں بالکل حقیر ہیں۔پس جو دوست اب تک سستی کرتے رہے ہیں، وہ اب چست ہو جائیں اور جو چست ہیں، وہ اپنے اندر اور چستی پیدا کریں۔ضمنا میں یہ بات بھی کہ دینا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں نے اپنی طاقت اور حیثیت سے کم وعدے کیے ہیں، چونکہ چندوں میں کمی ہے، اس لئے وہ اگر بڑھا دیں تو زیادہ ثواب پائیں گے۔عہدیداروں اور دوسرے کام کرنے والوں کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی چستی سے کام کریں۔ممکن ہے یہ کی ان کی سستی کی 16