تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 250

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 30 اپریل 1943ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ہے۔اس کا دانہ اتفاقاً پیدا ہو جاتا ہے اور قحط کے زمانہ میں لوگ اسے استعمال کیا کرتے ہیں۔مگر ہمارے ہاں باجرہ یا جوار یا مڈھل کھا کر لوگ شور نہیں مچاتے کہ ان کے لئے کس قدر مصیبت کا سامان پیدا ہو گیا ہے۔لیکن یورپ کے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ آج بھی ہم سے بہتر کھانے کھاتے ہیں مگر شور یہ مچار ہے ہیں کہ سخت مصیبت آگئی۔یہ تکلیف ان کو اسی وجہ سے ہے کہ انہوں نے اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔اگر وہ عمل کرتے تو اپنی روٹی کو زیادہ سے زیادہ سادہ بناتے ، اپنے لباس کو زیادہ سے زیادہ سادہ بناتے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف محسوس نہ ہوتی۔بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ لڑائی بھی نہ ہوتی۔کیونکہ لڑائی اس لئے ہو رہی ہے کہ بعض قو میں دوسروں کا مال چھیننا چاہتی ہیں۔پس تحریک جدید کی غرض کو سمجھو اور اپنی زندگیوں کو اور بھی سادہ بنانے کی کوشش کرو اور اس امر کو اچھی طرح سمجھ لو کہ تعیش کے سامان خواہ کس قدر کم ہوں، یقینی طور پر وہ امیر اور غریب میں دوری پیدا کر دیتے ہیں۔ہمارے ہاں عام طور پر زیادہ قیمتی قالین استعمال نہیں کئے جاتے۔امراء کے ہاں ہوتے ہیں لیکن ایسے امراء بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔عام طور پر لوگ فرش پر دریاں یا چادریں وغیرہ بچھا دیتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے ان کے ہاں قیمتی قالین نہیں ہوتے ، اگر گاؤں کی کوئی عورت آجائے اور وہ اس فرش پر بیٹھ جائے تو وہ برا مناتے ہیں کہ اس کے بیٹھنے کی وجہ سے ہمارا فرش میلا ہو گیا۔اب دیکھو یہ ایک بعد ہے، جو اس معمولی سے سامان کی وجہ سے امیر اور غریب میں پیدا ہو گیا ہے۔اگر یہ فرش نہ ہوتا تو اس غریب عورت کی تحقیر دل میں پیدا نہ ہوتی۔پس ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہم اس بعد کو دنیا سے مٹادیں اور ایسے رنگ میں منائیں کہ جب کوئی غریب آدمی کسی امیر کے کمرے میں داخل ہو تو اس غریب کا وہاں آنا اس پر گراں نہ گزرے بلکہ اس کا دل خوش ہو کہ وہ اپنے ایک بھائی سے مل رہا ہے۔لیکن اگر اس بعد کو دور ہی نہیں کیا جائے گا، اگر امیر اور غریب میں امیتاز قائم رہے گا تو جب تمہارے گھر میں پندرہ سو، دو ہزار یا تین ہزار کے قیمتی قالین بچھے ہوئے ہوں گے اور ایک غریب تم سے ملنے کے لئے آئے گا تو گو تم اسے تکلف سے کہہ دو گے کہ وہ قالین پر بیٹھ جائے۔مگر اس کا دل اندر سے دھڑک رہا ہوگا کہ کہیں میرے بیٹھنے کی وجہ سے قالین میلا نہ ہو جائے اور یہ امیر دل میں ناراض نہ ہو جائے اور تم اپنے دل میں اس پر اور سب غرباء پر لعنتیں کر رہے ہو گے کہ یہ بد تہذیب ، اس امر کا بھی خیال نہیں کرتے کہ اپنے میلے کپڑوں اور میلے پاؤں ہمارے گھروں میں آداخل ہوتے ہیں اور خدا کے فرشتے یہ کہہ رہے ہوں گے کہ لعنت ہو ایسے قالینوں پر اور لعنت ہوان قالین والوں پر جو خدا کے بندوں میں دوئی ڈال رہے ہیں۔250