تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 10
خطبہ جمعہ فرمودہ 105 اپریل 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم صوبوں میں بھی مثلاً مدراس، بنگال، بمبئی اور آسام وغیرہ میں وہ کام نہیں کر سکتے کیونکہ وہاں کے لوگ اردو بہت کم جانتے ہیں اس لئے وہاں ان مبلغوں کا حلقہ عمل بہت محدود ہوتا ہے۔اتنی اردو تو وہ لوگ جانتے ہیں کہ چھوٹی موٹی باتیں سمجھ سکیں مگر اتنی نہیں کہ تقریریں سمجھ سکیں۔سمندر کے سفر میں ، میں نے دیکھا ہے کہ بندرگاہوں پر آباد ہندو اور مقامی لوگ بھی ٹوٹی پھوٹی اردو بول اور سمجھ لیتے ہیں مگر اتنی نہیں جانتے کہ اردو میں تقریریں سمجھ لیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مدراس، بنگال، ہمبینی، مالا بار اور بمبئی کے دوسرے علاقوں کے لوگ جب لیکچرار مانگتے ہیں تو ساتھ یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ انگریزی خوان مبلغ بھیجے جائیں۔مگر ہم ایسے مبلغ نہیں دے سکتے۔اس وجہ سے ان علاقوں میں ہماری تبلیغ بہت محدودرہ گئی ہے اور صرف پنجاب اور اس کے ارد گرد کے علاقہ پر ہی زور ہے۔حالانکہ جس طرح پنجاب میں ایسی روحیں ہیں جو صداقت کے لئے اپنے دل میں تڑپ رکھتی ہیں اسی طرح دوسرے ملکوں اور علاقوں میں بھی ضرور ہیں۔لیکن ان علاقوں میں جب ہمارے مبلغ جاتے بھی ہیں تو تبلیغ کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے۔ابھی ایک مبلغ برمامیں بھیجا گیا ہے، جو جامعہ احمدیہ کا فارغ التحصیل ہے اور وہ مفید کام بھی کر رہا ہے۔مگر متواتر اپیل پر اپیل آرہی ہے کہ کوئی انگریزی دان مبلغ یہاں بھیجا جائے تو بہت اچھا ہو، کیونکہ یہاں ایک بہت بڑا طبقہ انگریزی دانوں کا ہے جن تک موجودہ مبلغ نہیں پہنچ سکتا۔تو تحریک جدید کے ماتحت یہ ضروری کام بھی کیا جا رہا ہے کہ ایسے مبلغ تیار کئے جاتے ہیں جو ساری دنیا میں تبلیغ کا کام کر سکیں۔بعض علماء ہیں جن کو انگریزی پڑھانے کے علاوہ دینی علوم میں بھی وسعت پیدا کی جارہی ہے اور بعض انگریزی خواں ہیں جن کو عربی پڑھائی جاتی اور دینی علوم سکھائے جاتے ہیں تا وہ دونوں باہم سموئے جائیں اور ہماری ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔اس میں شک نہیں کہ انگریزی کے علاوہ اور بھی بہت سی زبانیں ہیں جن کا سیکھنا تبلیغ کے لئے ضروری ہے۔اور میری سکیم یہی ہے کہ مختلف زبانیں نو جوانوں کو سکھائی جائیں مگر سر دست انگریزی ہی سکھائی جاتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اسی کے ذریعہ ہمارے لئے تبلیغ کا ایک نیا دروازہ کھل جائے گا اور ایک نیا طبقہ تبلیغ کیلئے ہمارے قریب ہو جائے گا۔فی الحال اس سکیم کے ماتحت پانچ چھ گریجوایٹ اور دس بارہ مولوی فاضل تیار کئے جارہے ہیں۔مولوی فاضلوں کو فی الحال انٹرس کا امتحان دلوایا گیا ہے اور انگریزی میں اس سے زیادہ قابلیت ان کے اندر پیدا کرنے کے سامان بھی کئے جارہے ہیں۔ان واقفین میں سے ایک کولنڈن بھیج کر میں نے انگریزی میں تعلیم دلوائی تھی اور اب اُسے افریقہ کے ایک علاقے میں کام کرنے کے لئے لگایا گیا ہے۔بظاہر دیکھنے 10