تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 199
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 1942ء یہ نہیں کر سکتے کہ تم آم کی شاخ پر مالٹے کا پیوند لگا دو یا مالٹے کی شاخ پر آم کا پیوند لگا دو۔اسی طرح تم یہ تو و کر سکتے ہو کہ باقی ساری جماعت تھوڑی قربانی کر رہی ہو اور کچھ لوگ ایسے ہوں ، جو زیادہ قربانی کر رہے ہوں۔مگر تم یہ نہیں کر سکتے کہ باقی ساری جماعت عیش کر رہی ہو اور چند لوگ انتہا درجے کی قربانی کر رہے ہوں۔اگر تم ایسا خیال کرو تو یہ ایسی ہی بات ہوگی جیسے کوئی کھٹے پر آم کا پیوند لگا دے یا آم پر مالٹے کا پیوند لگا دے۔اگر ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ دنیا میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں، جو ہمارے حکم پر آگ میں کودنے کے لئے تیار ہوں تو ہمیں اپنی تمام جماعت کو تنور کے پاس لا کر بٹھا دینا پڑے گا۔اگر ساری جماعت تنور کے پاس بیٹھی ہوئی ہو اور اس کی گرمی اسے جھلس رہی ہو تو چند لوگ ایسے بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو اس تنور میں کود پڑیں اور حکم ملنے پر آگ میں چھلانگ لگا دیں۔مگر تم یہ نہیں کر سکتے کہ باقی ساری جماعت تو باغ میں آرام کر رہی ہو اور کچھ لوگ آگ میں کود جانے کے لئے تیار ہوں۔میں یہ مانتا ہوں کہ تم سب کو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ آگ میں کود جائیں۔مگر تم میں سے بعض کو آگ میں کودنے پر تیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تم سب کو تنور کے ارد گر دلا کر بٹھا دیا جائے۔کیونکہ اگر ہم نے بعض سے تنور میں چھلانگ لگوانی ہے، اگر ہم بعض سے یہ امید رکھتے ہوں کہ وہ ہمارے حکم پر آگ میں کود جائیں گے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم سب کو تنور کے پاس لا کر بٹھا دیں اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہ کریں کہ تنور کی گرمی ان کے جسم کو پہنچتی ہے۔پس جہاں تحریک جدید کی غرض جماعت کے اندر سادہ زندگی کی روح پیدا کرنا اور اسلامی تمدن کا صحیح شعور پیدا کرنا ہے، وہاں تحریک جدید کی ایک اہم ترین غرض یہ بھی ہے کہ سب لوگوں کو تنور کے پاس لا کر بٹھا دیا جائے تا کہ ضرورت پر اس میں ایسے لوگ پیدا ہوتے چلے جائیں، جو حکم کے ملتے ہی اس تنور میں کود جائیں اور اپنی جان کو سلسلہ اور اسلام کے لئے قربان کر دیں۔اگر سب لوگ تنور کے ارد گرد نہیں بیٹھیں گے تو چند لوگ بھی تنور میں کودنے کے لئے میسر نہیں آسکیں گے۔یہ خدائی قانون ہے، جو قوم کی ترقی کی حالت میں بھی جاری رہتا ہے اور اس کے زوال کی حالت میں بھی جاری رہتا ہے، خوشی میں بھی جاری رہتا ہے اور نفی میں بھی جاری رہتا ہے کہ جب لوگ کسی کو کوئی بڑا کام کرتے دیکھتے ہیں تو انہیں اس سے انس پیدا ہو جاتا ہے اور اس وقت ان کے دلوں میں ایسا جوش پیدا ہوتا ہے کہ ان کی کمزوریاں چھپ جاتی ہیں، ان کی بے استقلالی جاتی رہتی ہے اور وہ بھی بڑے سے بڑے کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔تم اگر گھروں پر جاؤ اور لوگوں کو ان کے مکانوں سے نکال کر کہو کہ فلاں 199