تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 183
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 ستمبر 1942ء جماعت کا فرض ہے کہ مبلغین کی قدر کرے خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 1942ء اللہ تعالیٰ نے بعض دعائیں ایسی رکھی ہیں جو ہر شخص مانگ سکتا ہے اور نہ صرف مانگ سکتا ہے بلکہ اسے مانگنی چاہئیں مثلاً اسلام اور احمدیت کی ترقی کی دعا، تقوی اللہ کے حصول کی دعا، سلسلہ کی اشاعت اور اس کے نظام کے استحکام کی دعا، یہ دعا کہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کی مرضی کے مطابق کام کرنے کی توفیق ملے اور ہمارا کوئی قدم اس کے احکام کے خلاف نہ اٹھے، اسی طرح جو لوگ سلسلہ کی خدمت کر رہے ہیں، ان کے لئے دعا، یہ دعا ئیں ہیں جو ہم میں سے ہر شخص کو ہر روز کرنی چاہئیں اور کبھی بھی ان سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ہمارے کئی مبلغ قید ہیں یا قید نما حالت میں ہیں۔ان میں سے دس بارہ تو مشرقی ایشیا میں ہی ہیں مثلاً مولوی رحمت علی صاحب مولوی شاہ محمد صاحب، ملک عزیز احمد صاحب، مولوی محمد صادق صاحب، مولوی غلام حسین صاحب۔ان کے علاوہ کچھ لوکل مبلغ ہیں، جو پانچ سات ہیں۔جن میں سے بعض کو یہاں سے مقرر کیا گیا تھا اور بعض کو وہاں کی جماعتوں نے اپنا مبلغ بنا لیا تھا۔ان تمام مبلغین کے متعلق نہ ہمیں کوئی خبر ہے، نہ اطلاع۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان سب کو اپنی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔کیونکہ وہ ہماری طرف سے ان ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے بعض باتوں کو فرض کفایہ قرار دیا ہے اور تبلیغ بھی انہی میں سے ایک ہے۔یعنی اگر قوم میں سے کوئی شخص بھی تبلیغ نہ کرے تو ساری قوم گناہگار اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مورد ہوگی۔لیکن اگر کچھ لوگ تبلیغ کے لئے کھڑے ہو جائیں تو باقی قوم گناہگار نہیں ہوگی۔پس اگر یہ لوگ تبلیغ کے لئے غیر ممالک میں نہ جاتے تو احمد یہ جماعت اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں گناہگار ٹھہرتی اور وہ اس کے عذاب کی مورد بن جاتی۔کیونکہ وہ کہتا کہ اس قوم نے تبلیغ کو بالکل ترک کر دیا ہے۔جیسے مسلمانوں کی حالت ہے کہ جب انہوں نے فریضہ تبلیغ کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لیا اور ان میں ایسے لوگ نہ رہے جو اپنے وطنوں کو چھوڑ کر، اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر اور اپنے آرام و آسائش کے سامانوں کو چھوڑ کر غیر ممالک میں جائیں اور لوگوں کو داخل اسلام کریں تو وہ مورد عذاب بن گئے۔183