تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 178

اقتباس از خطبه جمعه فرمود 24 جولائی 1942ء تحریک جدید می تحریک جلد و پرسوں ممکن ہے اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان کی قربانی دینی پڑے؟ جو شخص مومین کہلاتا ہے، وہ یہ خیال بھی کیسے کر سکتا ہے کہ کوئی دن ایسا آئے گا کہ قربانی کا دروازہ بند ہو جائے گا؟ جو شخص ایسا خیال کرتا ہے، وہ احمق ہے۔کیا نماز، زکوۃ، صدقہ اور دوسرے احکام کا دروازہ کبھی بند ہوتا ہے، جو قربانی کا بند ہو جائے ؟ خدا تعالیٰ کے احکام میں سے کسی حکم کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔کیا کبھی اللہ تعالیٰ نے کسی کو حکم دیا ہے کہ تم نے دس سال تک بیچ بولا ، اب دو چار سال جھوٹ بول سکتے ہو۔پندرہ سال تک تم نے لوگوں کے اموال کی حفاظت کی ، اب تمہیں اجازت ہے کہ کچھ عرصہ ڈا کے مار لو اور لوگوں کے اموال لوٹ لو؟ پس کوئی شخص یہ خیال بھی کیسے کر سکتا ہے کہ قربانیاں دس پندرہ سال تک ہیں، اس کے بعد یہ بند ہو جائیں گی؟ یاد رکھو کہ قربانیاں ہمیشہ رہیں گی، ہاں ان کی شکلیں بدلتی رہیں گی۔جس دن قوم کے افراد کی کثرت قربانی کی روح سے محروم ہو جائے گی ، وہ دن اس قوم کی موت کا دن ہو گا اور جو شخص اس دن کا منتظر ہے جس دن قربانیوں کا سلسلہ بند ہو جائے ، وہ گویا اس دن کا منتظر ہے جس دن احمدیت مر جائے۔پہلی قومیں اسی طرح مری ہیں اور ہماری موت بھی اگر ہوئی تو اسی وجہ سے ہوگی۔قربانیاں قوموں کا سانس ہوتی ہیں۔جس طرح سانس جب تک چلتا ہے، تب تک انسان زندہ رہتا ہے۔اسی طرح جب تک کسی قوم میں قربانیوں کی روح زندہ رہتی ہے ، تب تک وہ قوم بھی زندہ رہتی ہے۔پس لڑائی سے سبق حاصل کرو اور ایسے خیالات کو ہرگز پاس نہ آنے دو کہ کسی وقت قربانیوں کا مطالبہ ختم ہو جائے گا بلکہ ہمیشہ یہ خیال رکھو کہ کل آج سے زیادہ قربانی کرنی پڑے گی۔اسی لئے میں نے تحریک جدید میں یہ بات رکھی تھی کہ چاہے کوئی شخص ایک پیسہ ہی بڑھائے، گزشتہ سال سے زیادہ ضرور دے تا اس کے ہر سال کی قربانی گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہو۔پس یہ بھی خیال نہ کرو کہ یہ قربانیاں بوجھ ہیں جوتم کو کچل دیں گی بلکہ یاد رکھو کہ یہ قوم کی زندگی کا سانس ہیں۔اس لئے ان کو جاری رہنے دو تا قوم کی زندگی باقی رہے۔جو شخص قربانیوں کا سلسلہ بند کرنا چاہتا ہے، وہ گویا احمدیت کا گلا گھونٹنا چاہتا ہے۔جس دن قربانیوں کا سلسلہ بند ہوا اسی دن احمدیت کا خاتمہ سمجھو۔اللہ تعالیٰ ہم کو اور ہماری نسلوں کو اس دن سے بچائے“۔178 ( مطبوع الفضل 31 جولائی 1942ء)