تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 6

اقتباس از خطبه عید الاضحیہ فرمود و 20 جنوری 1940ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم صاحب کی نقل نہ کی اور اس لڑکے کو نہ چوما۔پھر انہیں وہی جلوہ آگ میں نظر آیا اور مجھے بھی اس آگ میں خدا تعالیٰ کا جلوہ نظر آ گیا۔پس انہوں نے بھی آگ کو چوما اور میں نے بھی آگ کو چو مالیکن میرا چومنا ایک حقیت پر مبنی ہے اور تم نے اس بچہ کو چو ما تو یہ محض ایک نقل تھی۔تو در حقیقت خوشی میں شامل ہونا اسی کو نصیب ہوتا ہے جو آگ کے شعلوں کو چومنے کے لئے تیار ہوتا ہے اور اسی کا حق ہے کہ وہ عید منائے کیونکہ جب تک کوئی شخص آگ کے شعلوں میں سے نہیں گزرتا اس وقت تک وہ حقیقی خوشی بھی نہیں دیکھ سکتا۔پس ابراہیم علیہ السلام کی طرح جس نے اپنے بیٹے کی قربانی کر دی خواہ تعلیم و تربیت کے رنگ میں اور خواہ وقف زندگی کے صورت میں، اسے حق ہے کہ وہ اس عید کی خوشی میں شریک ہو اور اگر وہ اپنی اولاد کو خدمت دین کے لئے وقف نہیں کرتا اور نہ ان کی اس رنگ میں تربیت کرتا ہے جس رنگ میں اسلام اس سے مطالبہ کرتا ہے تو یقیناً اس کا اس عید میں شامل ہونے کا کوئی حق نہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ منافق لوگوں کو جب جہاد پر جانے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ بہانے بنا بنا کر پیچھے بیٹھے رہتے ہیں مگر مسلمان جب فتح پا کر اور مال غنیمت لے کر بکریوں اور اونٹوں کے گلے ہانکتے ہوئے واپس آتے ہیں تو وہ منافق بھی دوڑ کر ان کے پاس پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں : ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں، ہمیں بھی مال غنیمت میں سے حصہ دو اور ہمیں بھی ان گلوں اور ریوڑوں کی تقسیم میں شریک کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب اس قسم کے منافق تمہارے پاس پہنچیں تو تم انہیں دھتکار دو اور کہو کہ دور ہو جاؤ ہماری نظروں سے ! تم جب جہاد میں شامل نہیں ہوئے تو تمہارا کیا حق ہے کہ تم مال غنیمت میں شامل ہو؟ اسی طرح جس نے ابراہیم کے جہاد میں شمولیت کی اس کا حق ہے کہ وہ عید منائے مگر جس نے ابراہیم کے جہاد میں شمولیت نہیں کی، جس نے ابراہیم کی طرح اپنی اولا دکو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے وقف نہیں کیا اور اس خوشی میں شریک ہونے کے لئے آ گیا ہے وہ منافق ہے اور جس وقت وہ ابراہیم کی خوشی میں شریک ہوتا ہے آسمان کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں اور کہتے ہیں : اے منافقو ! دور ہو جاؤ ہماری نظروں سے تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم اس خوشی میں شریک ہو۔تم نے وہ جہاد تو نہ کیا جو ابراہیم نے کیا تھا مگر تم بوٹیاں کھانے کیلئے آگئے۔پس تمہاری عید کوئی عید نہیں ، عید اسی کی ہے جو ابراہیم کے نمونہ کو پنے سامنے رکھتا اور اپنی اولاد کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے قربان کرتا ہے۔6