تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 174

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود : 15 مئی 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہمت سے کام نہ لیں تو یہ بوجھ بالکل بے کار اور بے سود ثابت ہوگا کیونکہ وقت پر اگر قسطیں ادا نہ ہوں تو و گورنمنٹ زمین کو ضبط کر سکتی ہے اور بعض دفعہ بڑے بڑے تاوان ڈال دیتی ہے۔پس چونکہ یہ اقساط مئی میں ادا کی جاتی ہیں۔میں پچھلے سالوں میں بھی دوستوں کو یہ تحریک کرتا رہا ہوں کہ وہ 31 مئی تک اپنے وعدے ادا کرنے کی کوشش کریں اور اب تو مئی سے ختم ہونے میں بہت ہی تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔پھر بھی جن کو خدا تعالیٰ نے عزم اور ہمت دی ہے، وہ ان تھوڑے دنوں میں بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔زمیندار احباب کے لئے جون کے آخر تک مدت مقرر ہے اور اگر وہ بھی ہمت کریں تو اپنے وعدوں کا بہت سا حصہ ادا کر سکتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ اس زمانہ میں قحط کی وجہ سے بوجھ بہت ہیں مگر اس میں بھی شک نہیں کہ جس وقت انسان کو تباہی کے آثار نظر آتے ہیں تو قربانی کی روح بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ذلیل ترین وجود بھی ایسے وقت میں بڑی بڑی قربانیاں کر دیتے ہیں۔ہمارے ملک میں ہر سال یہ سوال علماء، فقہاء کے سامنے پیش ہوتا ہے کہ کوئی کنچنی مسجد کی تعمیر کے لئے روپیہ دینا چاہتی ہے۔اسے قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے سامنے بھی یہ سوال بار بار پیش ہوتا رہتا تھا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر سال ہی کچھ کچنیاں مرتے وقت دین کے لئے اپنی جائیداد یا روپیہ وقف کرنا چاہتی ہیں۔دیکھو انہوں نے یہ روپیہ کتنی بے حیائی سے کمایا ہوتا ہے، وہ عصمت فروشی روپیہ کے لئے ہی کرتی ہیں۔مگر جب موت سامنے آتی ہے تو وہی روپیہ جس کی خاطر انہوں نے خاندان کی ناک کٹوائی، جس کی وجہ سے وہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے سامنے آتے ہوئے شرماتی ہیں اور جس کی وجہ سے وہ شرفا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوتیں، ان میں سے بعض جب مرنے لگتی ہیں تو منتیں کرتی ہیں کہ یہ روپیہ لے لو اور کسی دینی کام پر خرچ کر دو تو اگر کنچنی بھی مرتے وقت خشیت اللہ سے اتنی متاثر ہو جاتی ہے تو مومنوں پر کتنا اثر ہونا چاہئے۔جتنا جتنا قرب کسی کو اللہ تعالیٰ کا حاصل ہوتا ہے، اتنا ہی ایسے موقعہ پر اس کے دل میں خشیت زیادہ پیدا ہوتی ہے۔سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعلق آتا ہے کہ جب بادل آتا تو آپ گھبرا کر کبھی کمرہ کے اندر جاتے کبھی باہر آتے۔ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیابات ہے، آخر یہ بادل ہی ہیں، ان سے گھبرانے کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا بے شک یہ بادل ہیں مگر تم سے پہلی قوموں پر بھی ایسے بادل آتے تھے اور وہ ان کو دیکھ کر خوش ہوتی تھیں مگر بعض بادل ہی ان کے لئے عذاب ثابت ہوئے اور ان کو تباہ کر گئے۔ہمارے ملک میں دیکھو جب گرمیوں میں بادل آئیں تو لوگ کس طرح خوش ہوتے 174