تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 150

خطبہ جمعہ فرمودہ 09 جنوری 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم جو شخص شہید ہوتا ہے ، وہ بہت بڑے ثواب کا مستحق ہوتا ہے مگر اس نے یہ نہیں کہا کہ دشمن اگر تم پر حملہ کرے تو تم اس کا مقابلہ نہ کرو۔بلکہ اس نے یہی حکم دیا ہے کہ جب دشمن تم پر حملہ کرے تو تم اس کا خوب مقابلہ کرو۔پس ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے شہادت کو نعمت قرار دیا ہے مگر دوسری طرف اسلام کی حفاظت کے خیال سے اس نعمت کی طرف دوڑ کر جانے سے منع کیا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی جان کی حفاظت کیا کریں تا کہ اسلام کی حفاظت ہوتی رہے۔پس اول تو شہادت کی نعمت دشمن کے قبضہ میں ہوتی ہے۔پھر جس کے سامنے شہادت کا موقعہ آتا ہے، اسے بھی یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ اسے فوراً قبول کر لے بلکہ اسے یہی حکم ہوتا ہے کہ دشمن کے حملہ کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ روکو اور اگر پھر بھی دشمن کامیاب ہو جائے تو شہادت کا انعام پاؤ۔تو شہادت ان نعمتوں میں سے ہے، جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔مگر کسی کو دعوت پر مدعو کرنا، یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔پس بعض نعمتیں دنیا میں ایسی ہوتی ہیں جن کو انسان اپنے اختیار سے حاصل کر سکتا ہے اور بعض نعمتیں دنیا میں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کے اختیار سے باہر ہوتی ہیں۔جو نعمتیں انسان کے اختیار سے باہر ہوتی ہیں، ان کامل جانا انسان کے نصیبے کی بات ہوتی ہے۔ورنہ کئی لوگ با وجود خواہش اور کوشش کے ایسی نعمتوں سے محروم رہتے ہیں۔صحابہ کو ہم دیکھتے ہیں، ان کی خواہش تھی کہ وہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں شہید ہو جائیں اور انہوں نے مرتبہ شہادت حاصل کرنے کے لئے بڑی بڑی کوششیں کیں۔مگر باوجود شدید خواہش رکھنے کے بعض شہید ہوئے اور بعض نہ ہوئے۔چنانچہ بعض کو فوراً ہی شہادت کا مقام حاصل ہو گیا اور بعض ساری عمر لڑائیوں میں شامل ہونے کے باوجود شہید نہ ہوئے۔امیر حمزہ جب جنگ کے لئے نکلے تو انہوں نے ابھی کوئی کام بھی نہیں کیا تھا کہ شہید ہو گئے۔حالانکہ وہ اسلام کے بہترین جرنیلوں میں سے تھے اور ابتدائے زمانہ اسلام میں صرف 2 (دو) مسلمانوں میں بہادر سمجھے جاتے تھے۔ایک حضرت عمر اور دوسرے امیر حمزہ۔جب یہ دونوں اسلام میں داخل ہوئے تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ہم گھروں میں چھپ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کریں۔جب کعبہ پر ہمارا بھی حق ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے اس حق کو حاصل نہ کریں اور کھلے بندوں اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جو کفار کو فساد کے جرم سے بچانے کے لئے گھر میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے ، خانہ کعبہ میں عبادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس وقت آپ کے ایک طرف حضرت عمر تلوار کھینچ کر چلے جارہے تھے اور دوسری طرف امیر حمزہ۔اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خانہ کعبہ میں علی الاعلان نماز ادا 150