تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 149
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 09 جنوری 1942ء مار دو تا کہ میں خدا تعالیٰ کے رستہ میں قربان ہو جاؤں تو یہ قربانی نہیں کہلائے گی بلکہ خود کشی کہلائے گی۔ایسا شخص اگر نادان ہے تو اپنی نادانی کے مطابق خدا تعالیٰ سے سزا پائے گا اور اگر عالم ہے اور اس نے دین کا علم رکھتے ہوئے ، اس فعل کا ارتکاب کیا ہے تو وہ اپنے علم کے مطابق خدا تعالیٰ سے سزا پائے گا۔بہر حال اس رنگ میں مرنے والا خود کشی کرنے والا ہی سمجھا جائے گا، یہ نہیں کہا جائے گا کہ اسے دین کے ساتھ بڑا عشق تھا اور اس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان دے دی۔ہاں اگر کوئی شخص دین سے بغض رکھتے ہوئے اسے اسلام سے پھر انا چاہتا ہے اور جب وہ اسلام چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تو اپنے اندرونی خبث کے نتیجہ میں اس پر حملہ کر دیتا ہے اور مومن جان سے مارا جاتا ہے ، تب اس کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ شہید ہوا ہے، اس کے بغیر نہیں۔تو شہادت کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں بلکہ دوسرے کے اختیار میں ہوتی ہے اور دوسرا بھی کوئی دوست نہیں ہوتا ، جس کے اختیار میں یہ بات ہو بلکہ دشمن کے اختیار میں یہ بات ہوتی ہے۔جو کام دوستوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہو، اس کے متعلق تو انسان خیال کر سکتا ہے کہ میں وہ کام کرانے کے لئے اپنے دوستوں سے درخواست کروں گا، ان سے التجا کروں گا اور اصرار کروں گا کہ وہ میری خواہش پوری کر دیں۔مگر یہ چیز اس کے دوستوں کے اختیار میں بھی نہیں ہوتی مثلاً مہمان نوازی بڑے ثواب کا کام ہے مگر یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔اسی طرح کسی دوست کی دعوت کرنا، یہ بھی انسان کے اختیار میں ہوتا ہے۔وہ اپنے دوست کے پاس جا کر کہ سکتا ہے کہ میری خواہش ہے آپ آج کا کھانا ہمارے ہاں کھائیں اور وہ اس بات کو مان لیتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کو ہم کھانے کے لئے بلانا چاہتے ہیں ، وہ بزرگ ہوتا ہے۔اس صورت میں ہم اس بزرگ کے پاس جا کر اس سے التجا کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں کھانا کھایا جائے اور اصرار کے ساتھ اس کی عنایت کے طلبگار ہوتے ہیں۔تب اگر اس بزرگ کے پاس وقت ہوتا ہے اور وہ دعوت میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں دیکھتا تو ہماری بات مان لیتا ہے۔اسی طرح ہم اپنے خورد کے پاس جا کر پیار اور محبت سے چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے گھر آئے اور کھانا کھائے اور وہ ہماری بات مان لیتا ہے۔پس یہ چیز ایسی ہے، جو ہمارے دوستوں کے قبضہ میں ہے۔مگر شہادت دوست کے قبضہ میں نہیں بلکہ دشمن کے قبضہ میں ہوتی ہے اور اس میں درخواست، التجا یا اصرار کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔یہ بات اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتی ہے کہ چاہے تو وہ مارے اور چاہے تو نہ مارے۔پھر یہ شہادت ان افعال میں سے ہے جن کو خدا نے گو بہت بڑے ثواب کا موجب قرار دیا ہے مگر ساتھ ہی اس قسم کے افعال کو اس نے روکنے کا حکم دیا ہے۔اس نے یہ تو بے شک کہا ہے کہ شہادت ایک بہت بلند مقام ہے اور 149