تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 148

خطبہ جمعہ فرمودہ 09 جنوری 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم وعدے لکھوانے ہیں۔جو لوگ فوری طور پر چندہ ادا کر سکتے ہوں ، ان سے چندے وصول کرنے ہیں اور اس امر کو بھی مدنظر رکھنا ہے کہ دوستوں نے گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں نمایاں اضافے کے ساتھ وعدے کئے ہیں یا نہیں۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ آج پھر احباب جماعت کو اس چندہ میں شمولیت اور اس تحریک کی اہمیت کی طرف توجہ دلا دوں۔تحریک جدید کے چندہ کی اہمیت کے متعلق میں نے جلسہ سالانہ پر بھی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی اور اس سے پہلے جب میں نے اس سال کی تحریک کا اعلان کیا تھا تو اس وقت بھی دوستوں کو اس کی طرف توجہ دلائی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب مجھے اس چندہ کی اہمیت کے متعلق کچھ مزید کہنے کی ضرورت نہیں۔تاہم میں اس قدر کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے متواتر خطبات سے جماعت کے دوست اچھی طرح سمجھ چکے ہوں گے کہ یہ تحریک کس نیت سے کی گئی ہے اور ہمارا ارادہ اس سے کتنا عظیم الشان کام لینے کا ہے؟ نتائج اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور وہی بہتر جانتا ہے کہ اس تحریک کے کیا نتائج رونما ہوں گے؟ لیکن بہر حال ہم نے اس تحریک سے اشاعت دین کے لئے ایک عظیم الشان بنیا د ر کھنے کی نیت کی ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ مومن صرف نیت تک ہی اپنے کام کی حفاظت کر سکتا ہے؟ نیت کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت سے ہوتا ہے۔گو اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ نیت صالح بھی اللہ تعالٰی کے فضل سے ہی پیدا ہوتی ہے۔مگر پھر بھی صرف نیت اور ارادہ ہی ایک ایسی چیز ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد بنایا ہے، ورنہ اعمال حالات کے لحاظ سے بالکل بدلتے چلے جاتے ہیں۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ الاعمال بالنیات یعنی اعمال نیتوں کے تابع سمجھے جاتے ہیں، نیست عمل کے تابع نہیں سمجھی جاتی۔اس حدیث میں جہاں مومنوں کے لئے ایک عظیم الشان بشارت ہے، وہاں منافقوں کے لئے تہدید بھی ہے۔مومنوں کے لئے اس میں بشارت اس طرح ہے کہ بعض اوقات مومن خدا تعالیٰ کی راہ میں پوری طرح اپنے دل کے حوصلے نہیں نکال سکتا۔وہ چاہتا ہے کہ میں دین کی راہ میں قربان ہو جاؤں مگر قربانی کا کوئی موقع ہی نہیں آتا اور اس کی خواہش دل میں ہی رہتی ہے کیونکہ محض قربانی کی خواہش کرنے سے کوئی شخص قربان نہیں ہوسکتا۔بلکہ اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کوئی دشمن ہو اور وہ بھی محض دینی مخالفت کی بناء پر اس کو قتل کرے۔اور یہ چیز ایسی ہے جو کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔اور اگر کوئی شخص بجائے اس رنگ میں اپنی قربانی پیش کرنے کے کسی دوسرے شخص کے پاس جائے اور کہے کہ میری گردن پر کلہاڑی 148