تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 144
اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اور اس وجہ سے آج گو وہ ہر لحاظ سے گر چکے ہیں، پھر بھی مسلمان ان کی خدمت کرتے ہیں۔جہاں کوئی عرب نظر آئے ، اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں، آیئے عرب صاحب ، آئیے عرب صاحب۔تو جہاں جہاں احمدیت پھیلے گی ، وہاں جو ہندوستانی جائے گا، وہاں کے احمدی اس کی عزت کریں گے اور کہیں گے کہ یہ ہمارے سردار ہیں، اس ملک سے آئے ہیں، جس میں قادیان واقعہ ہے۔انہیں عزت سے بٹھائیں گے اور ان کے لئے کھانے پینے کا انتظام کریں گے۔تو اسلام اور احمدیت کی ترقی کے ساتھ ہندوستانیوں کی عزت بھی بڑھے گی اور ہر جگہ احمدی ان کی عزت کریں گے۔یہاں سے چونکہ انہیں ہدایت حاصل ہوئی ہوگی ، اس لئے اس ملک کے ہر باشندہ کو خواہ وہ ہندو ہو یا سکھ، عیسائی یا کسی اور مذہب کا ، دیار محبوب کا باشندہ سمجھ کر اس کی عزت کریں گے۔اب دیکھو اس عزت کے مقابل میں سواراج کی حقیقت ہی کیا ہے؟ مگر افسوس کہ ہندوؤں نے اس سوال کو اس نقطہ نظر سے نہیں دیکھا۔پہلے جو نبی آتے تھے ، وہ مخصوص قوموں اور مخصوص ملکوں کے لئے ہوتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کی ہدایت کے لئے مامور فرمایا ہے اور احمدیت نے دنیا کے کناروں تک پھیلنا ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے کناروں تک ہندوستانیوں کا روحانی ادب اور رعب قائم کرے گا“۔( مطبوعه الفضل 10 فروری 1942ء) 144