تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 143

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1941ء لوگ تو اگر جہالت کی بات بھی جانیں تو سمجھتے ہیں کہ وہ عالم ہو گئے ہیں مگر بعض احمدی اس قدر دینی امور سے واقفیت رکھنے کے باوجود سمجھتے ہیں کہ وہ علم نہیں رکھتے اور اس وجہ سے تبلیغ نہیں کر سکتے“۔کون سا علم ہے، جو قرآن میں نہیں۔تم تو علم النفس اور دوسرے علوم کے وہ مسائل، جو تمہیں سکھائے گئے ہیں، دوسروں کو سناؤ تو بڑے بڑے عالم حیران رہ جائیں۔میں تو حیران ہوا کرتا ہوں کہ ایک احمدی کس طرح یہ سمجھ سکتا ہے کہ اسے کچھ نہیں آتا؟ کیا یہ ضروری ہے کہ ہر انسان پر فرشتے نازل ہوں اور ہر انسان اسی صورت میں سمجھ سکتا ہے کہ اسے فرشتے سمجھانے کے لئے آئیں؟ جو علم نہیں رکھتے ، وہ دوسروں کے علوم سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے ؟ سلسلہ کی کتب اور اخبارات ورسائل کیوں نہیں پڑھتے اور اس طرح علم حاصل نہیں کرتے“۔تبلیغ یا درکھو کہ ہمارے ذمہ دنیا کی فتح کا کام ڈالا گیا ہے اور یہ کام بہت اہم ہے۔اس کے لئے ایک بہت بڑی جماعت کی ضرورت ہے اور اس واسطے ہندوستان میں جماعت کا بڑھانا بہت ضروری ہے۔اور تبلیغ کرتے ہوئے غیر قوموں کی طرف خصوصیت سے توجہ کی ضرورت ہے۔اس ملک میں ہندوؤں کی تعداد، مسلمانوں کی نسبت تین گنا ہے۔صرف برطانوی ہندوستان کی آبادی 33-32 کروڑ ہے اور اس میں سے صرف تین چار ہزار کا سال بھر میں احمدی ہونا، کوئی کام نہیں۔اس لئے تبلیغ کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔بالخصوص ہمسایہ اقوام کے سامنے محبت اور پیار سے اسلام کو پیش کرنا چاہیے۔ان سے کہو کہ تم ہمیں تبلیغ کرو، اپنی باتیں سناؤ اور ہماری سنو۔بعض علماء کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بات چیت کرنی ہو تو اپنا کوئی پنڈت یا گیانی لاؤ، یہ ٹھیک نہیں۔ایسی باتوں کی وجہ سے ہی وہ گھبراتے ہیں اور بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔کھلے دل سے ان کی باتیں سنو، اس میں گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔کیونکہ آخر کار وہ تمہارے ساتھ شامل ہوں گے۔پانی ہمیشہ نیچے کی طرف ہی بہتا ہے۔تم بہت اونچے ہو، اس لئے پانی انہی کی طرف جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا، اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ہندو قوم کو ترقی دینا چاہتا ہے۔وہ تو چاہتا ہے کہ ان بنیوں کو دین کی حکومت عطا کرے، مگر یہ لوگ سواراج کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور اس عزت سے بے پروا ہیں، جو اللہ تعالیٰ ان کو دینا چاہتا ہے اور جو اسلام کو قبول کرنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔احمدیت کی ترقی کے ساتھ ساتھ تمام ہندوستانیوں کی عزت بڑھے گی۔عربوں نے ایک زمانہ میں اسلام کی خدمت کی تھی 143