تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 142
اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1941ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ہوں۔اور اگر ہم میں تو نہیں مگر ہماری اولادوں میں یہ ذہنیت موجود رہے گی تو کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی۔مسلمان کی زندگی تکلفات سے پاک ہونی چاہئے۔" ہماری جماعت کے دوستوں کو بھی چاہئے کہ اپنی زندگی ایسی بنائیں کہ امیر وغریب کا کوئی فرق نظر نہ آئے۔میں نے ہمیشہ دیکھا ہے، جب بھی میں کسی دعوت وغیرہ پر جاتا ہوں تو وہاں ایک جگہ نمایاں طور پر گاؤ تکیہ وغیرہ لگا ہوتا ہے۔میں نے ہمیشہ منع کیا ہے مگر پھر بھی دوست ان باتوں کو چھوڑتے نہیں“۔وقف زندگی و تبلیغ کے لئے تیاری کے ضمن میں ایک اور ضروری تحریک وقف زندگی کی ہے۔پہلے پہل جب یہ تحریک کی گئی تو بہت سے نوجوانوں نے اپنے نام پیش کئے تھے مگر اب اتنے نہیں کرتے۔اس لئے میں پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تبلیغ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔آج وہ دن ہیں کہ انسان چنوں کی طرح بھونے جارہے ہیں۔کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ خود ہی اپنی جانوں کو خدا تعالیٰ کے لئے دے دیں؟ آج جب ہر چیز پر وبال آرہا ہے۔تو کیا اسے خدا تعالیٰ کی راہ میں صرف کر دینا بہتر نہیں ؟ پس گریجوایٹ یا انٹرنس پاس مولوی فاضل نوجوان اپنی زندگیوں کو وقف کریں۔جلد از جلد ضرورت ہے کہ نوجوان اپنے نام پیش کریں۔جونو جوان آج اپنے آپ کو پیش کر یں، وہ چھ سال میں تیار ہوسکیں گے۔شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ اس وقت جو استاد ہمیں ملے ہیں، وہ بوڑھے ہیں۔ممکن ہے جب موجودہ نو جوان تیار ہو جائیں تو یہی کورس چار سال میں ختم کروایا جاسکے۔بہر حال آج زندگی وقف کرنے والے نو جوانوں کی ضرورت ہے تا ابھی سے ان کی تیاری کا کام شروع کر دیا جائے۔اس وقت گو ہندوستان سے باہر مبلغ نہیں بھیجے جا سکتے مگر جنگ کے بعد بہت ضرورت ہوگی۔فی الحال ہمیں ہندوستان میں ہی تبلیغ کے کام کو بڑھانا چاہئے اور باہر کا جو رستہ بند ہو چکا ہے، اس کا کفارہ یہاں ادا کرنا ضروری ہے۔پس کیوں نہ ہم یہاں اتنا زور لگائیں کہ جماعت میں ترقی کی رفتار سوائی یا ڈیوڑھی ہو جائے اور دو تین سال میں ہی جماعت دوگنی ہو جائے ؟ جب تک ترقی کی یہ رفتار نہ ہو، کامیابی نہیں ہو سکتی۔ہمارے سامنے بہت بڑا کام ہے۔پونے دو ارب مخلوق ہے، جسے ہم نے صداقت کو منوانا ہے اور جب تک باہر کے راستے بند ہیں، ہندوستان میں ہی کیوں نہ کوشش زیادہ کی جائے ؟ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم تبلیغ کا کام نہیں کر سکتے کیونکہ ہم عالم نہیں ہیں۔مجھے تو یہ کبھی سمجھ نہیں آئی کہ ایک احمدی یہ خیال کس طرح کر سکتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا؟ احمدی سے زیادہ عالم اور کون ہو سکتا ہے؟ دوسرے 142