تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 141

ید- ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1941ء پس وہی تحریک جدید جو میں نے جاری کی تھی ، اسے اللہ تعالیٰ نے سب ممالک کے لئے جبری قرار دے دیا ہے اور شاید ہندوستان میں بھی ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ لوگ مجبور ہو کر اسے اختیار کریں۔بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایسے دن آرہے ہیں کہ روٹی روتے ہوئے گلے سے اتر سکے گی۔مگر احمدی مطمئن ہوں گے کہ ہم نے اپنے خلیفہ کی بات مان لی اور اس طرح تو اب بھی حاصل کر لیا۔جو چیز دوسرے لوگوں نے مجبور ہوکر کی ، وہ ہمارے لئے ثواب کا موجب ہو گئی۔اللہ تعالیٰ نے یہ زندگی ہمیں خدمت خلق کے لئے دی ہے اور اگر کھانے پینے ، بیٹھنے اٹھنے میں تکلف ہو تو ایسے اثرات پیدا ہوں گے کہ یہ مقصد پورا نہ ہو سکے گا اور امیر وغریب اکٹھے نہ ہو سکیں گے۔ہمارے ملک میں امیروں اور غریبوں کے درمیان ایک دیوار حائل ہے۔وہ ایک دوسرے سے میل جول اور کھانے پینے سے پر ہیز کرتے ہیں۔پیروں نے بھی ان کو غلط راستے پر لگا دیا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ابھی تک بعض لوگ مجھے ملنے آتے ہیں تو وہ پیروں کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کو ہزا ر منع کرو، وہ سمجھتے ہیں کہ بطور انکسار منع کرتے ہیں ورنہ ہمیں ضرور ایسا ہی کرنا چاہئے۔ان پیروں نے کس طرح انسانیت کو ذلیل کر دیا ہے؟ میں تو کہتا ہوں کہ اگر کوئی حکومت آئے تو سب سے پہلے ان کو پکڑے۔ان سب کو کنسٹر ریشن (consentration) کیمپوں میں بھیج دینا چاہئے۔احمدیت کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے قائم کیا ہے کہ انسانیت کو بلند کیا جائے۔لیکن ابھی تک احمدیوں میں بھی بعض ایسے لوگ ہیں جو ان باتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ہم منع کرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ انکسار کرتے ہیں حالانکہ مجھے ان باتوں سے سخت تکلیف ہوتی ہے۔میرے سامنے جب کوئی ہاتھ جوڑتا ہے تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے مار رہا ہے۔اور دراصل کسی کے ایسا کرنے کے معنیٰ یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مار پڑ رہی ہے کہ احمدی جماعت ابھی تک قوم کی اصلاح میں کامیاب نہیں ہوئی۔پس امیر و غریب کا امتیاز نہایت خطرناک چیز ہے اور اسے جلد از جلد مٹانا ہمارا فرض ہے۔میرا ایک عزیز تھا۔میرے منہ سے تھا نکلا ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہے۔مجھے اس سے محبت نہیں عشق تھا۔مگر ایک دفعہ اس کے منہ سے یہ فقرہ نکلا کہ فلاں علاقہ کے احمدی بھی عجیب ہیں، نہ موقعہ دیکھتے ہیں اور نہ وقت ، اور ملنے آجاتے ہیں۔پس اس دن کے بعد سے میں اپنے اور اس کے درمیان ایک دیوار حائل پاتا ہوں۔یہ ذہنیت نہایت خطرناک ہے اور جب تک ہم اس سانپ کا سر نہیں چل دیتے ، اس وقت تک اسلام کو دنیا میں غالب نہیں کر سکتے۔جب تک یہ ذہنیت موجود رہے گی کہ تم اور ہو اور میں اور 141