تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 140
اقتباس از تقریر فرموده 27 دسمبر 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پس یہاں سے جانے کے بعد جماعت کے دوست کوشش کریں کہ ہر شخص چندہ تحریک جدید میں اپنا وعدہ لکھوائے اور پھر اسے پورا بھی کرے۔تحریک ہر ایک احمدی کو کی جائے مگر جبر نہ کیا جائے۔جو شخص چاہے، حصہ لے اور جو نہ چاہے، نہ لے“۔امانت فنڈ دوسری صورت یہ ہے کہ امانت فنڈ کو مضبوط کیا جائے۔اس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔پہلے اس میں صرف دس بارہ ہزار روپیہ سالانہ آتا تھا۔پچھلے سال میں نے تحریک کی تو اٹھارہ میں ہزار آیا مگر یہ بھی کم ہے۔اگر دوست توجہ کریں تو کم سے کم لاکھ دولاکھ روپیہ سالانہ آمد ہوسکتی ہے۔ہر شخص کو چاہئے کہ جنگ کے خطرات کے پیش نظر یا مکان بنانے کی نیت سے یا بچوں کی تعلیم اور ان کی شادیوں وغیرہ کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور پس انداز کرتا رہے اور پھر اسے امانت فنڈ میں جمع کراتا رہے تا مصیبت یا ضرورت کے وقت کسی کے سامنے دست سوال نہ دراز کرنا پڑے۔مجھے تو بیسیوں لوگوں نے کہا ہے کہ آپ کی اس تحریک نے ہمیں بہت فائدہ پہنچایا ہے۔ہمارے لئے کوئی صورت مکان بنانے کی نہ تھی اور اس طرح بنالیا تو اس طرف دوستوں کو خاص توجہ کرنی چاہئے“۔سادہ زندگی تیسری چیز سادہ زندگی ہے۔میں دیر سے اس طرف دوستوں کو توجہ دلا رہا ہوں اور اب تو خدا تعالی دنیا کو کھینچ کر سادہ زندگی کی طرف لا رہا ہے۔اب یہ تمام مشکلات پیدا ہو رہی ہیں کہ کپڑا نہیں ملتا، جرا ہیں نہیں ملتیں، بنیانیں نہیں ملتیں اور جو چیز ملتی ہے، وہ ایسی گراں ہے کہ اسے خریدنا مشکل ہے اور اگر جنگ لمبی ہوگئی تو شاید چند کروڑ پتی ایسے ہوں گے، جو ان چیزوں کو خرید سکیں۔ورنہ باقی سب کو مجبوراً اپنی زندگی میں سادگی اختیار کرنی پڑے گی۔آج ہزاروں لوگ ہیں، جو مجبور ہو کر اسے اختیار کر رہے ہیں اور جن احمدیوں نے میرے کہنے پر اسے اختیار کیا، وہ کتنے فائدے میں رہے کہ اس سے انہیں ثواب بھی حاصل ہو گیا ؟ میری طرف سے اس تحریک کے بعد مختلف ممالک میں حکماً وہی باتیں جاری کی گئیں۔مسولینی نے حکم دیا کہ گوشت کی صرف ایک ہی پلیٹ استعمال کی جائے۔جرمنی میں بھی ایسے احکام دیئے گئے ہیں اور ڈاکٹر گوئبلز نے کہا ہے کہ جب تک تمام لوگ اپنے اخراجات میں بچت نہ کریں گے، کام نہ چل سکے گا۔امریکہ میں مسٹر رینڈل ولکی نے ، جو انتخابات صدر کے موقع پر مسٹر روز ویلٹ کے مدمقابل تھے ، کہا ہے کہ ہمیں اپنے کھانے پینے اور پہنے میں پوری پوری سادگی سے کام لینا چاہئے۔انگلستان میں بھی خود بخود اپنے کھانے اور پہنے پر قیود عائد کر لی گئی ہیں۔140