تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 117

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1941ء المُيَانِ لِلَّذِينَ امَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ خطبہ جمعہ فرمودہ 28 نومبر 1941ء پس ایسے وقت میں جب خدا دنیا کی اصلاح کے لئے کسی نبی کو بھیجتا ہے، ترقی کے دروازے بہت کھلے ہوتے ہیں اور جو لوگ تھوڑی سی خدمت بھی کرتے ہیں، ان کی خدمت کو وہ خوب بڑھاتا اور انہیں مدارج پر مدارج عطا کرتا ہے۔مگر ساتھ ہی سزا کے دروازے بھی بہت کھلے ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت جو شخص سستی کرتا ہے، وہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کے رستہ میں روک بنتا ہے اور وہ اس کچھی دیوار کے مشابہ ہوتا ہے، جو دریا کے بہاؤ کے منہ پر بنائی جائے۔تم جانتے ہو کہ دریا کے مقابلہ اس کا کیا حال ہوگا؟ اس کا تو کیچڑ بھی نظر نہیں آئے گا اور کوئی چیز اسے برباد ہونے سے بچا نہیں سکتی۔پس ایسے زمانہ میں جہاں اللہ تعالیٰ کے انعامات کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔وہاں اگر کوئی ایسے کام کرتا ہے، جن سے ترقی میں روک واقع ہوتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی گرفت میں آجاتا ہے۔اس وقت بھی خدا تعالیٰ کا ایک خاص ارادہ ظاہر ہوا ہے اور اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ احمدیت کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت کو پھر دنیا میں قائم کرے۔پس آج اسلام کے مئے ہوئے نقشوں کو پھر تازہ کرنے کا خدا تعالیٰ نے تہیہ کر لیا ہے۔پھر اس کی گری ہوئی دیواروں کو فرشتے نئے سرے سے کھڑا کر رہے ہیں۔چنانچہ یا تو یہ حالت تھی کہ دشمن کا ہر حملہ جو اسلام کی دیواروں پر ہوتا تھا ، کامیاب ہوتا نظر آتا تھا اور خیال ہوتا تھا کہ اگر وہ ایک طرف سے دھکا دے گا تو دیوار کی دوسری طرف کو بھی نقصان پہنچ جائے گا اور اب یہ حالت ہے کہ اسلام کی دیوار میں پھر مضبوط ہو رہی ہیں اور پھر اس میں ایسی طاقت پیدا ہو گئی ہے کہ دنیا کے سر اس سے ٹکر اٹکرا کر ٹوٹ جائیں گے مگر اس کو نقصان نہیں پہنچاسکیں گے۔بے شک اس وقت کی نشو و نما ایک کو نیل کی طرح ہے مگر وہ چٹان بھی جس کو توڑنے کے لئے انجن لگا دیئے جائیں، خطرہ میں ہوتی ہے اور وہ کو نیل جس کی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ کے فرشتے پہرہ دے رہے ہوں ، خطرہ میں نہیں ہوتی۔پس بے شک اسلام اس وقت ایک کونپل کی شکل میں ہے اور دشمن کی طاقت چٹانوں کی طرح ہے مگر ان چٹانوں کو فرشتے توڑ رہے ہیں اور اس کو نپل کی وہ ٹنگی تلواروں سے حفاظت کر رہے ہیں۔117