تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 111

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود 25 جولائی 1941ء کہو۔شریعت کا حکم یہی ہے کہ جب ضرورت نہ ہو، چپ رہو۔مگر جب بولوتو سچ بولو سینکڑوں باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان ان کو بیان نہیں کر سکتا اور شریعت ان کے بیان پر مجبور نہیں کرتی۔اگر کوئی ایسا عیب کسی میں دیکھو کہ جس کے متعلق شریعت کہتی ہے کہ اسے بیان نہ کر وہ تو اسے مت بیان کرو۔مگر کوئی بات کرو اور جھوٹ بولو، یہ جائز نہیں۔سچ بولنے کے یہ معنی نہیں کہ ہر بات جو تم کو معلوم ہے، ضرور بیان کر دو۔تمہیں یہ حق ہے کہ بعض باتوں کے متعلق کہہ دو کہ میں بیان کرنا نہیں چاہتا۔بعض باتیں خواہ وہ سچ ہوں، بیان کرنے سے قانون نے بھی روکا ہے۔مثلاً قانون یہی ہے کہ جو بات دوسرے کو بری لگے ، اس کی بناء پر بھی ہتک عزت کا مقدمہ ہوسکتا ہے۔پس یہ ضروری نہیں کہ ہر سچی بات ضرور بیان کرو۔ہاں جو بیان کرو، وہ بیچ سچ بیان کرو۔پس یہ باتیں ضرور اپنے اندر پیدا کر و۔خدمت خلق ، چستی سچائی اور معاملات کی درستی۔اگر ایک پیسہ بھی کسی سے لیا ہے تو جب تک اسے واپس نہ کر وہ تمہیں چین نہ آئے محنت کی عادت ڈالو، اپنا سبق اچھی طرح یاد کرو، رستہ میں مسافروں سے اچھا سلوک کرو، ماں باپ کی خدمت کرو اور ایسا نمونہ دکھاؤ کہ جس طرح پھول لے کر کوئی شخص ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو تمام رستہ میں ان کی خوشبو پھیل جاتی ہے، اسی طرح اب جو تم اپنے اپنے گھروں کو جو ہندوستان کے ہر گوشہ میں ہیں، جاؤ تو تمام ہندوستان تمہاری خوشبوں سے مہک اٹھے۔اور جس طرح پھولوں کی خوشبو پھیلتی ہے، تمہاری خوشبو بھی سارے ملک میں پھیل جائے اور تمام ملک تمہاری خوشبو سے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک مہک اٹھے۔اگر تم ان باتوں پر عمل کرو گے تو واقعی تمام ملک تمہاری خوشبو سے مہک اٹھے گا اور لوگ کہیں گے کہ کیا خوش قسمت ہے ہمارا ملک کہ جس میں ایسے بچے پیدا ہوئے ہیں اور ملک کی کتنی خوش قسمتی ہے کہ اس کی باگیں اب ان کے ہاتھوں میں آنے والی ہیں۔مطبوع الفضل 30 جولائی 1941ء) 111